التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو ابراہیم محمد بن ابی حمید زرقی انصاری مدنی

المتوفی ما بین ۱۶1ھ – ۱۷۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو ابراہیم محمد بن ابی حمید زرقی انصاری مدنی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو ابراہیم محمد بن ابی حمید زرقی انصاری مدنی (المتوفی ما بین ۱۶1ھ– ۱۷۰ھ [87])کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو مدني، وليس حديثه بشيء‘‘[88]. یہ مدنی ہے، اور اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، ولا يكتب حديثه‘‘[89]. لیس بشیء ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

امام احمد بن حنبلl ’’العلل‘‘[90] میں محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه أحاديث مناكير‘‘. اس کی احادیث منکر احادیث ہیں۔

امام احمد بن حنبلl ہی ’’العلل‘‘[91] میں ایک دوسرے مقام پر محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس هو بقوي في الحديث‘‘. یہ حدیث میں قوی نہیں ہے۔

حافظ احمد بن صالح مصری l، محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ثقة، لا شك فيه، حسن الحديث، روى عنه أهل المدينة، يقولون: حماد بن أبي حميد، وغيرهم يقولون: محمد بن أبي حميد، ولقد قال رجل: محمد وحماد أخوان ضعيفان، وهذا الرجل هو الضعيف، إذ يضعف رجلا لم يخلق، ولم يكونا أخوين قط، إنما هو واحد، فجعل واحدا اثنين، ثم جعلهما ضعيفين، فمن أضعف من هذا الذي يبسط لسانه فيمن لا يعرف، انتهى، فرضنا أن هذا الرجل غلط في جعله إياه اثنين، لكنه لم يقدم على تضعيفه إلا بعد أن تبين له أن أحاديثه ضعيفة، لشذوذها أو إنكارها، أو غير ذلك، فالبحث الذي قاله أحمد بن صالح غير صحيح، لا سيما والألسنة كلها منطبقة على تصحيفه[92]‘‘[93].

یہ ثقہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، حسن الحدیث ہے، اس سے اہلِ مدینہ نے روایت کی ہے، وہ اسے حماد بن ابی حمید کہتے ہیں، اور اہلِ مدینہ کے علاوہ لوگ اسے محمد بن ابی حمید کہتے ہیں، اور ایک شخص نے کہا: محمد اور حماد دونوں بھائی ہیں، دونوں ضعیف ہیں، اور یہ کہنے والا شخص خود ضعیف ہے، اس لئے کہ اس نے ایسے شخص کی تضعیف کی ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا، اور ہرگز یہ دونوں بھائی نہیں ہیں، یہ ایک ہی فرد ہے، سو اس نے ایک فرد کو دو بنا دیا ہے، پھر دونوں کو ضعیف بنا دیا ہے، سو اس شخص سے بڑا ضعیف کون ہو سکتا ہے کہ جو اپنی زبان ایسے شخص کے بارے میں کھولے جسے وہ جانتا ہی نہیں، حافظ احمد بن صالح مصری lکی بات مکمل ہوئی، (حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں) ہم فرض کر لیں کہ اس شخص نے اسے دو قرار دے کر غلطی کی ہے، لیکن اس نے اس راوی کی تضعیف کا اقدام صرف اس صورت میں کیا ہے کہ اس کے سامنے اس کی احادیث کے شذوذ یا ان کے منکر ہونے کی وجہ سے ان کا ضعف ظاہر ہوگیا ہے، یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ظاہر ہوئی ہوگی، سو وہ بات جو احمد بن صالح l نے کہی ہے وہ صحیح نہیں ہے، خاص طور پر تمام زبانیں اس کی تصحیف پر متفق ہیں۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[94]،’’التاريخ الصغير‘‘[95] اور ’’الضعفاء الصغير‘‘[96] میں محمد بن ابی حمید کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے ’’أحوال الرجال‘‘[97] میں محمد بن ابی حمید کو ’’واهي الحديث، ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے محمد بن ابی حمید کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[98]۔

حافظ ابو حاتمl ، محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا ضرير البصر، وهو منكر الحديث، ضعيف الحديث، مثل ابن أبى سبرة، ويزيد بن عياض، يروي عن الثقات بالمناكير‘‘[99]. یہ نابینا تھے، اور یہ منکر الحدیث، ضعیف الحدیث ہے، جیسے ابن ابی سبرہ، اور یزید بن عیاض، یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

امام ترمذیl ’’العلل‘‘[100] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’سألت محمدا عن أبي إبراهيم، فقال: هو محمد بن أبي حميد، وهو حماد بن أبي حميد أبو إبراهيم الأنصاري، وهو ضعيف، ذاهب الحديث، لا أروي عنه شيئا‘‘. میں نے محمد (یعنی امام بخاری l) سے ابو ابراہیم کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: وہ محمد بن ابی حمید ہے، یہی حماد بن ابی حمید ابو ابراہیم انصاری ہے، اور یہ ضعیف، ذاہب الحدیث ہے، میں اس سے کچھ بھی روایت نہیں کرتا۔

نیز امام ترمذیl ’’سنن‘‘[101] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن أبي حميد يضعف، ضعفه بعض أهل العلم من قبل حفظه، ويقال له: حماد بن أبي حميد، ويقال: هو أبو إبراهيم الأنصاري، وهو منكر الحديث‘‘. اور محمد بن ابی حمید کی تضعیف کی گئی ہے، بعض اہلِ علم نے حفظ کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور اسے حماد بن ابی حمید کہا جاتا ہے، اور ابو ابراہیم انصاری بھی کہا جاتا ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو بکر بزار l ’’مسند البزار‘‘[102] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن أبي حميد هذا فليس بالقوي، وقد روى عنه جماعة من أهل العلم، واحتملوا حديثه‘‘. اور محمد بن ابی حمید یہ قوی نہیں ہے، اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اس سے روایت کی ہے، اور اس کی حدیث کا ’’حمل‘‘ کیا ہے۔

امام نسائی l ’’السنن الكبرى‘‘[103] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن أبي حميد ليس بشيء في الحديث‘‘. اور محمد بن ابی حمید حدیث میں لیس بشیء ہے۔

امام نسائی l ہی نے ’’الضعفاء‘‘[104] میں محمد بن ابی حمید کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[105] میں محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان شيخا مغفلا، يقلب الإسناد ولا يفهم، ويلزق به المتن ولا يعلم، فلما كثر ذلك في أخباره بطل الاحتجاج بروايته‘‘. یہ شیخ مغفل تھا، اسناد میں قلب کرتا تھا اور اسے سمجھ نہیں ہوتی، اور اسناد کے ساتھ متن کو چپکا دیتا تھا اور اسے معلوم نہیں ہوتا، جب یہ اس کی اخبار میں کثرت سے ہونے لگا تو اس کی روایت سے احتجاج باطل ہوگیا۔

حافظ ابن حبان l ہی ’’المجروحين‘‘[106] میں ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’كان كثير الخطأ، فاحش الوهم، يروي المناكير عن المشاهير، حتى يسبق إلى القلب أنه المعتمد لها، لا يجوز الاحتجاج بخبره‘‘. یہ کثرت سے خطاء کرنے والا، بہت زیادہ وہم والا تھا، مشاہیر کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا تھا، حتی کہ دل میں یہ بات سبقت کر چکی ہے کہ یہ جان بوجھ کر مناکیر لاتا ہے، اس کی خبر سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[107] میں محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وحديثه متقارب، وهو مع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور اس کی حدیث متقارب ہے، اور اس کے ضعف کے باوجود اس کی حدیث کو لکھا جائے گا۔

حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[108] میں محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک لیس بالقوی ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl نے ’’مستدرک‘‘[109] میں متعدد مقامات پر محمد بن ابی حمید کی احادیث کو ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے، اور حافظ ذہبی l نے بھی وہاں ان کی موافقت کی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[110] میں ایک حدیث کے تحت محمد بن ابی حمید کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[111] میں ایک روایت کے تحت محمد بن ابی حمید کو ’’ليس بشيء في الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن بشکوال l ’’شيوخ ابن وهب‘‘[112] میں فرماتے ہیں: ’’مدني، ضعيف الحديث، شبيه بالمتروك‘‘. مدنی ہے، ضعیف الحدیث ہے، متروک کے مشابہ ہے۔

حافظ منذریl ’’الترغيب‘‘[113] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’رواه أحمد والطبراني من رواية محمد بن أبي حميد المدني، ولم يترك، ومشاه بعضهم، ولا يضر في المتابعات‘‘. اسے احمد l اور طبرانی l نے محمد بن ابی حمید مدنی کی روایت سے روایت کیا ہے، اور یہ متروک نہیں ہے، اور بعض محدثین نے اسے چلا دیا ہے، اور یہ متابعات میں مضر نہیں ہے۔

امام نوویl نے ’’خلاصة الأحكام‘‘[114] میں ایک روایت کے تحت محمد بن ابی حمید کو ’’منكر الحديث، سيء الحفظ‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[115] اور ’’ديوان‘‘[116] میںمحمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘میں محمد بن ابی حمید کو ایک روایت کے تحت ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘[117]،  دوسرے مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے[118]۔

حافظ ہیثمی l ہی ’’مجمع الزوائد‘‘[119]میں ایک روایت کے تحت محمد بن ابی حمید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وقد أجمعوا على ضعفه‘‘. اور اس کے ضعف پر اجماع ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[120] میں محمد بن ابی حمید کو ’’ضعيف‘‘ اور ’’التلخيص‘‘[121] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[87] امام بخاری l نے  ’’التاريخ الصغير‘‘میں محمد بن ابی حمید کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶1 ھ سے 1۷۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[88] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/۱۳۳،رقم:۸۰۰ ،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[89]  انظر الكامل في ضعفاء الرجال:۷/409،رقم:۱۶71،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[90]  العلل ومعرفة الرجال:۲/۴۰۵،رقم:۲۸۱۱،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .

[91]  العلل ومعرفة الرجال:۲/۴۸۱،رقم:۳۱۵۹،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .

[92]  واضح رہے کہ ’’تہذیب التہذیب‘‘کے دیگر دو نسخوں میں بھی یہ لفظ ’’تصحیف‘‘ہی ہے، دیکھئے: (تهذيب التهذيب: 3/549،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت. وكذا في تهذيب التهذيب:5/552، رقم:6887،ت:عادل أحمد عبد الموجود،علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ) .

[93]  انظرتهذيب التهذيب:9/133،رقم:۱83،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۷هـ .

[94] التاريخ الكبير:۱/۷۲،رقم:۱۶۸،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[95] التاريخ الصغير:2/۱۶۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[96] الضعفاء الصغير:ص:۱۰۳،رقم:۳۱۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[97] أحوال الرجال:ص:۲۲۱،رقم:۲۲۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .

[98] الجرح والتعديل:۷/۲34،رقم:۱۲76،دار الكتب العلميةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[99] الجرح والتعديل:۷/۲34،رقم:۱۲76،دار الكتب العلميةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[100] علل الترمذي الكبير:ص:۲۵۵،رقم:۴۶۱،صبیحی السامرائی وغيره،عالم الکتب ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۹هـ .

[101]  سنن الترمذي:۱/۵۰۰،رقم:489،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[102] البحر الزخارالمعروف بمسند البزار:4/20،رقم:1180،ت:عادل بن سعد،مکتبة العلوم والحکم ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۲۶هـ..

[103] كتاب السنن الكبرى:3/241،رقم:2880،ت:حسن عبد المنعم شلبي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1421هـ .

[104] الضعفاء والمتروكين:ص:۱67،رقم:137،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[105] المجروحين:۲/۲۷1،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[106] المجروحين:1/۲53،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[107]  الكامل في ضعفاء الرجال:۷/4۱۱،رقم:۱۶71،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[108] الأسامي والكنى:۱/۱۶۷،رقم:۲۸۷،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴36هـ .

[109] المستدرك على الصحيحين:۱/۶۹۹،رقم:۱۹۰۳،وكذا في:2/157،رقم:2640،وكذا في:4/119،رقم:7080، وكذا في: 4/362،رقم:7928،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .

[110] السنن الكبرى:۷/۴۳۰،رقم:۱۴۵۳۷،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[111] ذخيرة الحفاظ:ص:۴۵۵،رقم:۶۴۲،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[112] شيوخ عبد الله بن وهب القرشي:ص:1۱0،رقم:68،ت:عامر حسن صبري،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى1428هـ .

[113] الترغيب والترهيب:۳/۴۷،رقم:۳۰،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة ۱۴۲۴هـ .

[114] خلاصة الأحكام في مهمات السنن وقواعد الإسلام:۲/۷۵۵،رقم:۲۶۳۹،ت:حسين إسماعيل الجمل، مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[115] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:2/166،رقم:4812،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[116] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۳۴8،رقم:۳۶81،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة،الطبعة1387هـ .

[117] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۲/۳۰۷،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[118] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۲/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[119] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۱۶۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[120]  تقريب التهذيب:ص:۴۷۵،رقم:۵۸۳۶،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[121] تلخيص الحبير:۳/4۱۹،رقم:1568،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ