التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو خلیل بزیع بن حسان بصری خصّاف

ایک روایت میں تذکرہ

ابو خلیل بزیع بن حسان بصری خصّاف کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو خلیل بزیع بن حسان بصری خصّاف کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’بَزِيْع بن حسان سمع هشام بن عروة، روى عنه عبد الرحمن بن المبارك‘‘ [23]. یعنی امام بخاری l نے ان کے بارے میں کوئی جرح وتعدیل نہیں کی۔

حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’روى عن هشام بن عروة، حديث شبه الموضوع [كذا في الأصل] روى عنه عبد الرحمن بن المبارك، سمعت أبي يقول ذلك، وهو يقول: ذاهب الحديث ‘‘ [24].

اس نے ہشام بن عروہ سے موضوع کے مشابہ حدیث نقل کی ہے، ان سے عبدالرحمن بن مبارک نے حدیث نقل کی ہے، میں نے اپنے والد کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے، نیز وہ اسے ذاہب الحدیث بھی فرماتے تھے۔

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: یہ متہم ہے[25]۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’روى عنه عبد الرحمن بن المبارك، يأتي عن الثقات بأشياء موضوعة كأنه المتعمد لها‘‘ [26].ان سے عبدالرحمن بن مبارک نے حدیث نقل کی ہے، یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث لاتا تھا، گویا کہ وہ جان بوجھ کر اس طرح کرتا تھا۔

حافظ ابن عدی l نے بزیع کے ترجمہ میں ان کی مناکیر تخریج کیں ہیں، جن میں زیر بحث روایت نقل کر کے آخر میں فرماتے ہیں:

’’وهذه الأحاديث عن هشام بن عروة بهذا لإسناد مع أحاديث أخر، يروي ذلك كله بَزِيْع أبو الخليل هذا، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، مناكير كلها، لا يتابعه عليها أحد، وهو قليل الحديث‘‘ [27].

یہ تمام احادیث بمع دیگر احادیث کے ہشام بن عروہ سے اس ابوخلیل بزیع نے نقل کی ہیں، جن کی سند یہ ہے، ہشام بن عروہ،عن ابیہ، عن عائشہ ؓ، یہ تمام منکر احادیث ہیں، ان میں کسی نے بھی بزیع کی متابعت نہیں کی ہے، اور یہ بزیع قلیل الحدیث ہے۔

حافظ ابو نعیم l فرماتے ہیں: ’’بَزِيْع بن حسان الخصَّاف أبو الخليل البصـري، روى عـن هشام بن عـروة و محمد بـن واسـع أحـاديث موضوعة‘‘ [28]. ابوخلیل بزیع بن حسان خصّاف بصری ہشام بن عروہ ومحمد بن واسع کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے۔

حافظ عقیلی l فرماتے ہیں: ’’روى محمد بن بكار عنه، عن علي بن زيد بن جُدْعَان، وعطاء بن أبي ميمونة، عن زِرّ بن حُبَيْش، عن أبي بن كعب في فضائل القرآن سورة سورة. قال علي بن الحسن بن شقيق: سمعت عبدالله بن المبارك يقول: حديث أبي بن كعب هذا، أظن الزنادقة وضعته‘‘ [29]. محمد بن بکاّر نے بزیع سے، انہوں نے علی بن جدعان سے اور عطا بن ابی میمونہ سے، ان دونوں نے زِرّبن حُبیش سےانہوں نے       ابی بن کعب r سے قرآن کی سورت بسورت والی روایت نقل کی ہے۔علی بن حسن بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مبارک l کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابی بن کعب r کی یہ حدیث زندیق لوگوں نے گھڑی ہے۔

’’لسان المیزان‘‘ [30] میں ہے: ’’وقال البرقاني، عن الدارقطني: متروك، قلت: له عن هشام عجائب، قال: هي بواطيل، ثم قال: كل شيء له باطل‘‘.

برقانی l کہتے ہیں کہ دارقطنی l نے اسے متروک کہا ہے، میں نے کہا کہ ان کی ہشام سے ’’عجائب ‘‘ منقول ہیں، دار قطنی l نے کہا: یہ باطل ہیں، پھر دار قطنی l نے کہا کہ اس کی تمام روایات باطل ہیں ۔

حاکم l فرماتے ہیں: ’’يروي أحاديث موضوعة، ويرويها عن الثقات‘‘ [31]. یہ من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے، اور انہیں ثقہ لوگوں کے انتساب سے نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’و بَزِيْع هذا أبو الخليل الخصَّاف البصري، يروي الموضوعات عن الثقات‘‘[32]. یہ ابوخلیل بزیع خصّاف بصری ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا تھا۔

حافظ ہیثمی l فرماتے ہیں: ’’وهو ضعيف ‘‘[33]. یہ ضعیف ہے۔

حافظ ہیثمی l ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وفيه بَزِيْع أبو الخليل، ونسب إلى الوضع‘‘[34].اس میں بزیع ابو خلیل ہے، اور یہ وضع حدیث کی جانب منسوب ہے۔

حوالہ جات

[23] التاريخ الكبير:۲/۱۳۱،رقم:۱۹۴۲،دارالكتب العلمية ـ بيروت.

[24] الجرح والتعديل:۲/۴۲۱،رقم:۱۶۶۹،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[25]  ميزان الاعتدال:۱/ ۳۰۶،رقم:۱۱۵۹،ت:على محمد البجاوي،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶ هـ .

[26]  كتاب المجروحين:۱/۱۹۸،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲ هـ .

[27] الكامل في ضعفاءالرجال:۲/۲۲۳،رقم:۲۹۴،ت:محمد أنس مصطفى، الرسالة العالمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .

[28] کتاب الضعفاء:۶۶،رقم:۳۴ ،ت:فاروق حمادة،دارالثقافةـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵ هـ .

[29] لسان الميزان:۲/۲۷۷،رقم:۱۴۳۰،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .

[30] لسان الميزان:۲/۲۷۷،رقم:۱۴۳۰،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .

[31] لسان الميزان:۲/۲۷۷،رقم:۱۴۳۰،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .

[32] تذكرة الحفاظ:۵۲،رقم:۳۹،ت:خامد عبد الله المحلاوي التميمي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .

[33]  مجمع الزوائد:۵/۳۴،رقم:۷۹۵۸،ت:عبدالله محمد درويش،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲ هـ .

[34] مجمع الزوائد:۲/۱۳۸،رقم:۲۰۴۰،ت:عبدالله محمد درويش،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ