روایت: ’’پیغمبرﷺ نے فرمایا:مؤمن بانسری ہے خالی ہونے کے وقت شور کرنے والی ہے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:6/404،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
ملتی جلتی احادیث
روایت:آپ ﷺ کا بنی ہذیل کے ایک نوجوان شخص کو لشکر کا امیر مقرر کرنا، اور اس پر ایک شخص کا اعتراض کرنا کہ اسے امیر نہ بنائیں، کیونکہ آپ ہی کا فرمان ہے کہ پیشوا بوڑھا ہونا چاہئے، اور آپ ﷺ کا اس شخص سے فرمانا کہ اے ظاہر بیں! تو اس کو جوان اور بے ہنر نہ سمجھ ۔
روایت: ’’پیغمبرﷺ نے فرمایا:رزق کا دروازہ بند اور اس پر تالا لگا ہوا ہے، اس کی کنجی محنت، کوشش، اور کمانا ہے‘‘۔
روایت:’’پیغمبرﷺ نے فرمایا: لڑائیوں سے پہلے بہادری کچھ نہیں ہے‘‘۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔