باری تعالی کا نبی ﷺ کو معراج کے موقع پر فرمانا کہ آپﷺجوتوں سمیت عرش پر آجائیں
حکم:من گھڑت
تفصیل
حوالہ جات
[1] الآثارالمرفوعة:ص:۳۷،ت:محمدالسعید بن بسیونی زغلول،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة ۱۳۷ هـ .
حضرت لکھنوی l کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’وقد نص أحمد المقرئ المالكي في كتابه فتح المتعال في مدح خير النعال، والعلامة رضي الدين القزويني، ومحمد بن عبد الباقي الزرقاني في شرح المواهب اللدنية على أن هذه القصة موضوع بتمامها، قبح الله واضعها، ولم يثبت في رواية من روايات المعراج النبوي مع كثرة طرقها أن النبي كان عند ذلك متنعلا، ولا ثبت أنه رقي على العرش، وإن وصل إلى مقام دنا من ربه فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى فأوحى ربه إليه ما أوحى‘‘ .
[2] غاية المقال:ص:۲۲۸، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية ـ كراتشي،الطبعة الثالثة۱۴۲۹هـ .
[3] روح البيان:۵ /۲۲۶،مطبعة عثمانیه ـ إستانبول،الطبعة۱۳۳۱هـ .
[4] روح المعاني:۱۵/۲۲۶،دار إحياء التراث ـ بيروت.
ملتی جلتی احادیث
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
روزِ قیامت اللہ تعالی کا فقراء سے معذرت کرنا
روایت: ’’اتخذوا عند الفقراء أيادي، فإن لهم دولة يوم القيامة، فإذا كان يوم القيامة نادی مناد: سيروا إلى الفقراء، فيعتذر إليهم كما يعتذر أحدكم إلى أخيه في الدنيا‘‘.
تم فقراء کے ساتھ احسان کرو، اس لئے کہ قیامت کے دن ان کے لئے بادشاہی ہوگی، سو جب قیامت کا دن ہوگا پکارنے والا پکارے گا، چلو فقراء کی طرف، سو ان سے معذرت کی جائے گی جیسا کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے دنیا میں معذرت کرتا ہے۔
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
روزِ محشر باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ کون ہےجو حساب دے ؟حضرت صدیق اکبرr کےسامنے آنے پر اللہ کا غصہ ٹھنڈاہوجائے گا
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔