روزِ محشر باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ کون ہےجو حساب دے ؟حضرت صدیق اکبرr کےسامنے آنے پر اللہ کا غصہ ٹھنڈاہوجائے گا
تفصیل
یہ روایت انہی الفاظ سے ہمیں سنداً نہیں مل سکی ،البتہ علامہ ابوبکر بن محمد علی قرشی نے ’’أنیس الواعظین‘‘ میں اس روایت سے ملتے جلتے مضمون پر مشتمل ایک طویل روایت قیامت کے احوال بیان کرتے ہوئے ذکرکی ہے ،جسے ذیل میں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے:
’’حضرت سرورعالم ﷺ نے فرمایاہے کہ قیامت میں جب ندا ہوگی میرے بندو! جوکچھ تم نے دنیا میں کیا ہے اس کا حساب دو تو یہ سن کرتمام میدان والوں پر لرزہ طاری ہوگا،سب لوگ آدم e کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے ۔۔۔۔۔ [آپ ﷺ سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے]تم جس کو چاہو حساب کے لئے آگے بھیجو ،آپ پس پشت لوگوں کو دیکھیں گے کہ ہرشخص چھپ رہا ہے، اس وقت آپ دستِ مبارک دراز کرکے حضرت صدیق اکبر r کوپکڑ کے حساب گاہ میں کھینچیں گے ،حضرت صدیق اکبرr کہیں گے آپ پہلے مجھے نہ لے جائیں، کیونکہ میں آخر عمر مسلمان ہواہوں اوراس درگاہ کے لائق نہیں ہوں، میں نےکوئی کام پسندیدہ نہیں کیا ہے،پہلے آپ اسے پیش کریں جوعبادت میں سب سے زائد ہو ۔
اہل قیامت میں یہ سن کر ایک شور گریہ وزاری کا برپاہوگا ،آپ فرمائیں گے:اے صدیق !انبیاء کے بعد تم سب سے افضل ہو ،میں دوسرےکو کیوں کرلے جاؤں؟ حکم الٰہی ہوگا اے میرے محبوب! تم پہلے ایسے شخص کولائے ہو جس کے سفید بالوں سے مجھے شرم آتی ہے،حضرت صدیق r سجدے میں گرپڑیں گے ،حکم ہوگا اے ہمارے خلیل کے یارِ غار! اے ہمارے حبیب کے محب غمگسار !سجدے سے سر اٹھاؤ او رہمارے سوال کا جواب دو، دنیا میں تم نے کیا کیا ؟کون سی عبادت کی ؟کیا طاعت لائےہو؟حضرت صدیق ہیبتِ الٰہی سے تھرّا کر خاموش رہیں گے، مکرّر استفسار پرعرض کریں گے :سوال اعمال سے ہے اور میں بندہ ضعیف بیکار تھا ،حکم ہوگا تم ہمارے سامنے مفلس ہوکرآئے ہو،پس ہم تمہاری عبادت کو فرشتوں کی طاعت پر فضل دیتے ہیں ،تم کو ہم نےبخش دیا، جنت میں جاؤ ۔۔۔‘‘[1] ۔
حوالہ جات
[1] جلیس الناصحین ترجمة أنیس الواعظین:ص:۸۷ ،مترجم: برکت الله لکهنوی،الطبعة ایج، ایم،سعید کمپنی ـ کراتشی،مؤید الواعظین ترجمه أنیس الواعظین:ص:۹۷،الطبعةمطبع کریمی ـ بمبئ .
ملتی جلتی احادیث
وضوء سے پہلے کلمہ طیبہ پڑھنے کی فضیلت
روایت : ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :جو شخص رمضان المبارک کی تیئسویں شب کوسورۂ عنکبوت وسورۂ روم پڑھے وہ اہل جنت میں سے ہے‘‘۔
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
حضرت جبرائیل e کی چالیس ہزارسال کی عبادت سےامت محمدیہﷺکی فجرکی دوسنتیں بڑھ کرہیں
روزِ قیامت اللہ تعالی کا فقراء سے معذرت کرنا
روایت: ’’اتخذوا عند الفقراء أيادي، فإن لهم دولة يوم القيامة، فإذا كان يوم القيامة نادی مناد: سيروا إلى الفقراء، فيعتذر إليهم كما يعتذر أحدكم إلى أخيه في الدنيا‘‘.
تم فقراء کے ساتھ احسان کرو، اس لئے کہ قیامت کے دن ان کے لئے بادشاہی ہوگی، سو جب قیامت کا دن ہوگا پکارنے والا پکارے گا، چلو فقراء کی طرف، سو ان سے معذرت کی جائے گی جیسا کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے دنیا میں معذرت کرتا ہے۔