روایت: مساجد اپنے آباد کرنے والوں کو کشتی کی صورت میں پل صراط پار کرواکر جنت میں لے کر جائیں گی۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔
روایت:جنت میں جنتیوں کے سامنے حضور اکرمﷺ کا سورۂ یاسین پڑھنا، اور اللہ تبارک وتعالی کا سورۂ رحمن پڑھنا اور ایک روایت کے مطابق سورۂ انعام پڑھنا۔
روایت: ’’جس عورت کی شادی ہوجائےاور وہ اپنے ماں باپ کی زیارت کی نیت کرلے کہ میں اپنے ماں باپ سے ملنے جارہی ہوں، اور خاوند سے اجازت لے کر جائے، اور دل میں یہ ہو کہ اس عمل سے اللہ راضی ہوں گے، تو اللہ تعالی ہر قدم پر اس عورت کو سو نیکیاں عطاء فرماتے ہیں، سو گناہ معاف فرماتے ہیں اور جنت میں سو درجے بلند کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔
روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔