روایت:’’حسان بن ثابتr فرماتے ہیں:’’لما نظرت إلى أنواره وضعت كفي على عيني خوفا من ذهاب بصري‘‘. جب میں نے آپ ﷺ کے چہرے کے انوار کی طرف دیکھا تو میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا کہ کہیں میری بینائی نہ چلی جائے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] حجة الله على العالمين في معجزات سيد المرسلين:ص:41،ت:عبد الوارث محمد علي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴17هـ .
[2] لوامع الدرر في أستار المختصر:5/450،ت:اليدالي بن الحاج أحمد،دار الرضوان ـ موريتانيا،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
’’لوامع الدرر‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’روح من النور في جسم من القمر كحلة نسجت بالأنجم الزهر
لما نظرت إلى أنواره سطعت وضعت من خيفة كفي على بصري
خوفا على بصري من حسن صورته فلست أنظره إلا على قدر‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے آدمe کو زمین پر اتارا تو اپنی بھول کے غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تھا،اب اللہ رب العزت نے ان کو مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں فرمایا، تو ان تین دنوں کے روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے چہرے کی سیاہی ان کے چہرے کے نور میں تبدیل ہوگئی‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔