روایت: ’’ آپ s کا ارشاد ہے: اگر جھک جانے (یعنی عاجزی اختیار کرنے) سے تمہاری عزت گھٹ جائےتو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا‘‘۔
تفصیل
’’ ایک بارنبیs کے پاس ایک شخص آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے نبی s اس شخص نے میری بڑی توہین کی ہے، اللہ کے نبیs نے فرمایا: معاف کردو، دوبارہ آیا کہ اللہ کے نبیs میں نے اسے معاف کردیاتھا اس نے پھر میری توہین کی ہے، اس نے پھر مجھے طعنے دئیے ہیں، اللہ کے نبی s نے فرمایا: معاف کردو، تیسری بار آیا اور کہنے لگا: اللہ کے نبی s اس بار تو اس نے لوگوں میں کھڑے ہوکر مجھے ذلیل کیا ہے، اللہ کے نبی s فرمایا: معاف کردو، اور اسے معاف کرنے سے اگر تمہاری عزت کم ہوتی ہے تو میں محمد s قیامت والے دن تمہیں وہ عزت دلاؤں گا‘‘۔
حوالہ جات
[1] الصحيح المسلم:1/2001،رقم:2588،ت:محمد فؤاد عبد الباقى،دار الكتب العلميه ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔
روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔
روایت: ’’جس شخص کو یہ پسند ہوکہ وہ اللہ تعالی کا ہم نشین بنے، تو اس کو چاہیے کہ وہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔
روایت: مہمانو ں کے ساتھ بلاؤں کا گھر سے چلے جانا۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔