روایت: شہد کی مکھیوں کا آپ ﷺ کو یہ بتانا کہ ہم پھلوں کا رس چوستے وقت آپﷺ پر درود بھیجتی ہیں، جس کی وجہ سے شہد میں مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے۔
حکم: سنداً نہیں ملتی، اس کو بیان نہ کیا جائے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مقاصد السالكين:مترجم:ملك فضل الدين نقشبندی،ص:۶۷،اسلامك كلچرل فاؤنڈيشن،يو کے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔
روایت:’’نبیﷺ نے جبریل e سے فرمایا: اللہ عز وجل فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کےلئے‘‘، کیا آپ کو بھی اس رحمت سے کوئی چیز پہنچی ہے؟ جبریل e نے فرمایا: جی ہاں، مجھے بھی اس رحمت میں سے حصہ ملا ہے، میں انجام سے ڈرتا تھا، پھر مجھے آپ ﷺ کی وجہ سے امن حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے میری تعریف کی ہے: ’’جو قوت والا ہے مالکِ عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے، وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے امانت دار ہے‘‘۔
روایت: ’’جب اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: ’’اور آپ کو تمام جہان والوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘، تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل e سے فرمایا: کیا آپ کو بھی اس رحمت میں سے کچھ حصہ ملا ہے؟ جبریل e نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالی نے مجھ سے پہلے ہزاروں فرشتے پیدا کئے، سب کا نام جبریل رکھا، اور اللہ رب العزت نے ان سب سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ان کو جواب معلوم نہ تھا تو وہ پگھلنے لگے، پھر جب اللہ نے مجھے پیدا کیا اور مجھ سے کہا: میں کون ہوں؟ تو، اے محمد! مجھ سے آپ کے نور نے کہا: آپ کہہ دیجئے کہ آپ اللہ ہیں کوئی معبود نہیں سوائے آپ کے‘‘۔