روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تفسير الشعراوي:17/1035۰،ت:أحمد عمر هاشم،دار أخبار اليوم .
ملتی جلتی احادیث
روایت: شہد کی مکھیوں کا آپ ﷺ کو یہ بتانا کہ ہم پھلوں کا رس چوستے وقت آپﷺ پر درود بھیجتی ہیں، جس کی وجہ سے شہد میں مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے۔
روایت:بد نظری کی وجہ سے اللہ تعالی کے دیدار سے محروم ہونا ۔
روایت:’’ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! مجھے اپنی بیوی پر بھروسہ نہیں ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تو اپنی نگاہیں غیروں کی عورتوں سے محفوظ کرلے اللہ تعالی تیری بیوی کی حفاظت فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جو عورت نماز پڑھ کر اپنے خاوند کےلئے دعا نہ مانگے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی‘‘۔
روایت: جو شخص اس طرح درود شریف پڑھے گا، آپﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے، اور اسے، اس کے والدین، عزیز واقارب اور اس کے دوست احباب کو رتبۂ شفاعت عطافرمائیں گے: ’’اللّهم صل على محمد وتقبل شفاعته الكبرى، وارفع درجته العليا، وآته سؤله في الآخرة والأولى كما آتيت إبراهيم وموسى‘‘.