روایت:’’نبیﷺ نے جبریل e سے فرمایا: اللہ عز وجل فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کےلئے‘‘، کیا آپ کو بھی اس رحمت سے کوئی چیز پہنچی ہے؟ جبریل e نے فرمایا: جی ہاں، مجھے بھی اس رحمت میں سے حصہ ملا ہے، میں انجام سے ڈرتا تھا، پھر مجھے آپ ﷺ کی وجہ سے امن حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے میری تعریف کی ہے: ’’جو قوت والا ہے مالکِ عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے، وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے امانت دار ہے‘‘۔
حکم: حافظ سیوطی l فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کی سند پر واقفیت نہیں ہوسکی ہے‘‘، اسی طرح حافظ سیوطی l ہی ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’میں نے حدیث کی کسی بھی کتاب میں یہ حدیث تخریج کے ساتھ نہیں پائی ہے‘‘، حافظ سیوطی l کے قول پر علامہ نور الدین حلبی l اور علامہ زرقانی l نے اعتماد کیا ہے، اس لئے اسے رسول اللہﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] بحر العلوم:۲/3۸۲،ت:علي محمد معوض،عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1414هـ .
[2] الشفاء بتعريف حقوق المصطفى:1/17،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1399هـ .
[3] المواهب اللدنية:3/170،ت:صالح أحمد الشامي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعةالأولى1425هـ .
[4] سبل الهدى والرشاد:10/306،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۴هـ.
[5] نظم الدرر في تناسب الآيات والسور:2/612،ت:عبد الرزاق غالب المهدي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[6] بهجة المحافل وبغية الأماثل في تلخيص المعجزات والسير والشمائل:1/67،المطبعة الجمالية الكائنة بحارة الروم ـ مصر .
[7]الحاوي للفتاوي:۲/۱۳۳،ت:عبد اللطيف حسن،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۱هـ .
[8] السيرة الحلبية:۱/۲۶۵،مطبعة محمد علي صبيح ميدان الأزهر ـ مصر،الطبعة۱3۹3هـ .
[9] مناهل الصفا في تخريج أحاديث الشفا: ص:۳۱،رقم:۱۱،ت:سمير القاضي، مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[10] شرح الزرقاني على المواهب:۸/3۹۲،ت:محمدعبدالعزيزالخالدي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1417هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جب اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: ’’اور آپ کو تمام جہان والوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘، تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل e سے فرمایا: کیا آپ کو بھی اس رحمت میں سے کچھ حصہ ملا ہے؟ جبریل e نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالی نے مجھ سے پہلے ہزاروں فرشتے پیدا کئے، سب کا نام جبریل رکھا، اور اللہ رب العزت نے ان سب سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ان کو جواب معلوم نہ تھا تو وہ پگھلنے لگے، پھر جب اللہ نے مجھے پیدا کیا اور مجھ سے کہا: میں کون ہوں؟ تو، اے محمد! مجھ سے آپ کے نور نے کہا: آپ کہہ دیجئے کہ آپ اللہ ہیں کوئی معبود نہیں سوائے آپ کے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’أفضل العبادات أحمزها‘‘. عبادات میں افضل عبادت وہ ہے جس میں مشقت زیادہ ہو‘‘۔
روایت: حضرت ایوب e سے ان کی بیماری کے ایام کے بعد پوچھا گیا کہ یہ صحت کا زمانہ اچھا ہے یا وہ بیماری کا زمانہ اچھا تھا؟ حضرت ایوب e نے فرمایا: صحت بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور بیماری بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، لیکن ایک عجیب بات ہے کہ جب میں بیمار تھا اور صبح ہوتی تو اللہ رب العزت پوچھتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس بات سے اتنی لذت ملتی تھی کہ پورا دن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، اور جب شام ہوتی تو اللہ تعالی پھر عیادت فرماتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ اس سے ساری رات مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بیماری تو چلی گئی لیکن اللہ رب العزت کی عیادت کرنے کا لطف اور مزہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
روایت: جو شخص اس طرح درود شریف پڑھے گا، آپﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے، اور اسے، اس کے والدین، عزیز واقارب اور اس کے دوست احباب کو رتبۂ شفاعت عطافرمائیں گے: ’’اللّهم صل على محمد وتقبل شفاعته الكبرى، وارفع درجته العليا، وآته سؤله في الآخرة والأولى كما آتيت إبراهيم وموسى‘‘.