روایت: ’’جب اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: ’’اور آپ کو تمام جہان والوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘، تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل e سے فرمایا: کیا آپ کو بھی اس رحمت میں سے کچھ حصہ ملا ہے؟ جبریل e نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالی نے مجھ سے پہلے ہزاروں فرشتے پیدا کئے، سب کا نام جبریل رکھا، اور اللہ رب العزت نے ان سب سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ان کو جواب معلوم نہ تھا تو وہ پگھلنے لگے، پھر جب اللہ نے مجھے پیدا کیا اور مجھ سے کہا: میں کون ہوں؟ تو، اے محمد! مجھ سے آپ کے نور نے کہا: آپ کہہ دیجئے کہ آپ اللہ ہیں کوئی معبود نہیں سوائے آپ کے‘‘۔
حکم: حافظ سیوطی l نے اسے ’’جھوٹ‘‘، ’’بے اصل‘‘اور ’’باطل‘‘قرار دیا ہے، اور علامہ عجلونی l نے حافظ سیوطی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے، اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبیﷺ نے جبریل e سے فرمایا: اللہ عز وجل فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کےلئے‘‘، کیا آپ کو بھی اس رحمت سے کوئی چیز پہنچی ہے؟ جبریل e نے فرمایا: جی ہاں، مجھے بھی اس رحمت میں سے حصہ ملا ہے، میں انجام سے ڈرتا تھا، پھر مجھے آپ ﷺ کی وجہ سے امن حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے میری تعریف کی ہے: ’’جو قوت والا ہے مالکِ عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے، وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے امانت دار ہے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص چار سو مرتبہ پڑھے تو اس کے لئے چار سو شہیدوں کا ثواب لکھا جائے گا، ان میں ہر شہید ایسا ہوگا جس کا گھوڑا ذبح کردیا گیا ہواور اس کا خون بھی بہایا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص اس کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے تو اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا مقام جنت میں نہ دیکھ لے، یا جب تک اس کو جنت میں اس کا مقام نہ دکھلادیا جائے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
روایت: حضرت ایوب e سے ان کی بیماری کے ایام کے بعد پوچھا گیا کہ یہ صحت کا زمانہ اچھا ہے یا وہ بیماری کا زمانہ اچھا تھا؟ حضرت ایوب e نے فرمایا: صحت بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور بیماری بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، لیکن ایک عجیب بات ہے کہ جب میں بیمار تھا اور صبح ہوتی تو اللہ رب العزت پوچھتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس بات سے اتنی لذت ملتی تھی کہ پورا دن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، اور جب شام ہوتی تو اللہ تعالی پھر عیادت فرماتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ اس سے ساری رات مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بیماری تو چلی گئی لیکن اللہ رب العزت کی عیادت کرنے کا لطف اور مزہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔