روایت: آپ ﷺ کا زمزم کے کنویں میں لعاب دہن ڈال کر فرمانا کہ امت اس سے برکت حاصل کرے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مسند أحمد:3/472،رقم:3527،ت:أحمد محمد شاكر،دار الحديث ـ القاهرة،الطبعة الأولى1416هـ .
[2] أخبارمكة:2/55،رقم:۱۱۳9،ت:عبد الملك بن عبد الله بن دهيش،دار خضر ـ بيروت،الطبعة الثانية1414هـ .
[3] المعجم الكبير:11/97،رقم:11165،ت:حمدي عبد المجيدالسلفي،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة .
[4] البداية والنهاية:5/193،مكتبة المعارف ـ بيروت،الطبعةالسادسة1409هـ .
[5] أخبارمكة:2/52،رقم:۱۱۳۱،ت:عبدالملك بن عبدالله بن دهيش،دار خضر ـ بيروت،الطبعة الثانية1414هـ .
[6] أخبارمكة:2/57،56،55،ت:رشدي الصالح ملحس،دار الأندلس ـ بيروت،الطبعةالثالثة1403هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: یعفور نامی دراز گوش ( گدھے) کا آپ ﷺ سے ہم کلام ہونا،اور آپﷺ کا یعفور کو بطور قاصد صحابہp کے گھروں کی طرف بھیجنا، حضورﷺ کی وفات کے بعد یعفور کا اپنے آپ کوحضورﷺکےغم میں کنویں میں گراکر جان دے دینا۔
روایت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح کفو ملنے کے باوجود نہ کرے اس کو بیٹی کی ہر ماہواری کے بدلہ ایک پیغمبر قتل کرنے کا گناہ ملتا ہے، اور قیامت کے دن اسے یہ ماہواری پلائی جائے گی۔
روایت: اُس شخص کا منہ ٹیڑھا رہ جانا جس نے حضورﷺ کا نام تمسخر کے ساتھ لیا تھا۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ایک شخص کو مسجد میں سویا ہوا دیکھ کر حضرت علی r سے فرمانا: اے علی!اسے جگا دو، تاکہ وضو کر لے، پھر حضرت علی r کے پوچھنے پر بذات خود نہ جگانے کی یہ وجہ بیان فرمانا کہ مبادا انکار کر بیٹھتا اور میرے کہنے پر انکار کفر ہوجاتا، تیرے کہنے سے انکار کفر نہیں ہوگا‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے پوچھنے پر فرمانا کہمیری تم سے محبت ایسی ہے جیسے رسی کی گرہ۔