روایت: حضرت موسی e کے پوچھنے پر اللہ تعالی کا فرمانا کہ جب میں کسی بندے پر مہربان ہوتا ہوں تو اسے بیٹی عطا کرتا ہوں۔
تفصیل
روایت: حضرت موسی e نے اللہ تعالی سے پوچھا: یا اللہ! جب آپ اپنے بندہ پر مہربان ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں؟ اللہ تعالی نے فرمایا: اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی عطا کرتا ہوں، حضرت موسی e نے پھر پوچھا: یا اللہ! اگر آپ کسی بندہ پر زیادہ مہربان ہوں تو پھر کیا عطا کرتے ہیں؟ اللہ تعالی نے پھر فرمایا: تو میں اسے دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں، حضرت موسی e نے پھر پوچھا: یا اللہ! اگر آپ کسی بندہ پر سب سے زیادہ مہربان ہوں تو پھر کیا عطا کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالی نے پھر فرمایا: اے موسی! میں تیسری بیٹی بھی عطا کرتا ہوں، اور جب میں اپنے بندہ کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے سے کہتا ہوں: جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو، اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو مجھے اپنی خدائی کی قسم! میں اس کے باپ کا بازو خود بنتا ہوں، بیٹی رحمت ہوتی ہے۔
بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے بھی بیان کی جاتی ہے: ایک بار حضرت موسی e نے اللہ تعالی سے عرض کیا: اے مالک! جب آپ خوش ہوتے ہیں تو کیا کام کرتے ہیں؟ اللہ تعالی نے فرمایا: میں بارش برساتا ہوں، حضرت موسی e نے پھر عرض کیا: جب آپ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ اللہ تعالی نے فرمایا: میں بیٹیاں عطا کرتا ہوں، حضرت موسی e نے پھر عرض کیا: یا باری تعالی! جب آپ سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا: میں مہمان بھیجتا ہوں۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روزہ رکھنے کی وجہ سے امت محمدیہ ﷺ کے ہونٹوں کا خشک ہوجانا اور رنگ کا زرد پڑجانا، اور اس پر باری تعالی کی طرف سے ان کا اکرام فرمانا‘‘۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت: ’’جو شخص دن میں پچیس مرتبہ ’’اللهم بارك لي في الموت، وفيما بعد الموت‘‘ پڑھے گا،اللہ تعالی اسے شہیدوں جیسا اجر عطا فرمائیں گے اگرچہ اسے موت اپنے بستر پر ہی کیوں نہ آئے‘‘۔
روایت:ایک بچہ کا اپنی ماں کی گود میں حضرت یوسف e کی پاک دامنی کی گواہی دینا، اور حضرت یوسف e کا اس بچے کے جوان ہونے پر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، اور اس پر حضرت جبرئیل e کا یہ فرمانا: اللہ کریم اس مومن کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے جس نے پوری زندگی اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دی۔