حافظ قرآن کےلئے جنت میں رَیَّان نہر پر مرجان سے بنا شہر
حکم: شدید ضعیف، بیان نہیں کر سکتے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تاريخ مدينه دمشق:۵۴/۱۹۹،رقم:۱۱۴۴۸،ت:عمرو بن غرامة العمروي،دار الفكر،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[2] جمع الجوامع:۶/۵۳،رقم:۱۶۰۳۵،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة۱۴۲۶هـ .
[3] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[4] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[5] ميزان الاعتدال:۳/۴۰۵،رقم:۶۹۴۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[6] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[7] تهذيب الكمال:۲۴/۱۲۰،رقم:۴۹۴۳،ت:بشارعوادمعروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .
[8] الضعفاء والمتروکین:ص:۲۲۹،رقم:۵۰۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ
[9] الكامل:7/۲۰۰،رقم:۱۶۰۰،ت:عادل أحمدو علي محمد معوض،دار الكتب العلميةـ بيروت .
[10] تهذيب الكمال:۲۴/۱۲۰،رقم:۴۹۴۳،ت:بشارعوادمعروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .
[11] الكشف الحثيث:ص:۲۱۲،رقم:۵۹۷،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت:۱۴۰۷هـ .
[12] التقريب:ص:۴۵۹،رقم:۵۶۱۳،ت:محمد عوامة،دار الرشيدـ حلب،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[13] الكاشف:۲/۱۴۴،رقم:۴۶۳۳،ت:محمد عوامة،أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة۱۴۱۳هـ .
[14] تهذيب الكمال:۲۴/۱۲۰،رقم:۴۹۴۳،ت:بشارعوادمعروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .
[15] ميزان الاعتدال:۳/۴۰۵،رقم:۶۹۴۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[16] التقريب:ص:۴۵۹،رقم:۵۶۱۳،ت:محمد عوامة،دارالرشيدـ حلب،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: قبر کا حافظ قرآن کے بارے میں کہنا کہ میں حافظِ قرآن کاگوشت کیسے کھاسکتی ہوں جبکہ اس کے پیٹ میں اللہ کا کلام ہے۔
روایت: غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیقr کو سانپ کا ڈسنا
روایت: آپ ﷺ کا حضرت معاذr کو تعزیتی خط
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
حکایت : عبد اللہ بن قلابہ کا شداد کی عجیب و غریب جنت دیکھ کرحضرت امیر معاویہ r کو اس کے احوال سنانا، پھر کعب احبارlکا اُن کی تصدیق کرنا۔