روایت: ’’جوشخص یہ چاہے کہ وہ جہنم کی آگ سے آزاد کردہ لوگوں کو دیکھے تو وہ علم کی طلب والوں کو دیکھ لے ۔۔۔ ‘‘ ۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] تفسير الفخرالرازي:۲/ ۱۹۶،دارالفكر،الطبعة الأولى۱۴۰۱هـ .
[2] نزهة المجالس:۲/ ۸۱ ،دار الفكر.
پھر بعد میں یہ روایت ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں سندًا مل گئی، عبارت یہ ہے: قال حدثني أبي: قال: حدثنا عبد الرحمن بن یحي، حدثنا محمد بن الربیع، حدثنا داود بن سلیمان، عن جعفر بن محمد، عمن حدثه، عن ثابت، عن انس بن مالك قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من أحب أن ینظر إلی عتقاء الله من النار..... (تنبیه الغافلین: ص:۴۲۷،رقم:۶۶۷،ت:یوسف علي بدیوي،دار ابن كثیر- بیروت،الطبعة الثالثة۱۴۲۱هـ .
[3] الفتاوى الحديثية:۱۷۴،دارالمعرفةـ بيروت .
[4] کشف الخفاء:۲/ ۲۶۲،رقم:۲۳۵۵،ت:عبدالحميد هنداوي،المکتبة العصريةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من أكرم حبيبته وفي رواية كريمتيه لايكتب بعد العصر‘‘. جوشخص اپنی محبوب چیز، اور ایک روایت میں ہے دو مکرم چیزوں (یعنی آنکھوں) کا اکرام کرنا چاہے تو وہ عصر کی نماز کے بعد نہ لکھے۔
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
حضرت عثمان بن عفانr کانبی اکرمﷺ کو دعوت دینااور آپﷺ کے قدموں کو شمار کرنا
روایت : ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :جوشخص پہاڑ کو دیکھ کر آیت’’فتبارک الله أحسن الخالقین‘‘ پڑھے،اسے پہاڑ کے ذرات کے برابر نیکیاں ملیں گی‘‘۔