روایت: ’’من أكرم حبيبته وفي رواية كريمتيه لايكتب بعد العصر‘‘. جوشخص اپنی محبوب چیز، اور ایک روایت میں ہے دو مکرم چیزوں (یعنی آنکھوں) کا اکرام کرنا چاہے تو وہ عصر کی نماز کے بعد نہ لکھے۔
حکم: یہ قول آپ ﷺ کے ارشادات میں سےنہیں ہے،محدثین نے اسے امام شافعی l یا امام احمد بن حنبل l، یا ان کے علاوہ کسی طبیب وغیرہ کا قول قرار دیا ہے۔
تفصیل
روایت پرائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] المقاصد الحسنة:حرف الميم،ص:457 ،رقم:1065،ت:عبداللطیف حسن،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۲۷هـ .
[2] تمييزالطيب من الخبيث:178،رقم:1332،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۸هـ .
[3] كشف الخفاء:2/269،رقم:2385،ت:یوسف بن محمود،مکتبة العلم الحدیث ـ دمشق،الطبعة ۱۴۲۱هـ .
[4] أسنى المطالب:283،رقم:1348،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة1403هـ .
[5] إتقان مايحسن:562 ،رقم:1830،الفاروق الحديثيةـ القاهرة،الطبعة الأولى1415هـ. .
[6] الجدالحثيث:219،رقم:478 ،ت:فوازأحمد زمرلي،دارابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[7] الأسرارالمرفوعة:313،رقم :451،ت:محمد الصباغ،المکتب الإسلامی ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶ هـ .
[8] المصنوع:176،رقم:315،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[9] كشف الخفاء:2/259،رقم:2354،ت:یوسف بن محمود،مکتبة العلم الحدیث ـ دمشق،الطبعة۱۴۲۱هـ .
[10] اللؤلؤ المرصوع:ص:74،طبع بالطبعة البارونيةبالجدريةـ مصر .
[11] الطب للمستغفري: المخطوط،ص:42،43 .
ملتی جلتی احادیث
’’من صلى خلف عالم تقي فكأنماصلى خلف نبي‘‘.جس نے متقی عالم کےپیچھےنماز پڑھی گویا اس نےنبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
روایت: ’’من تزيا بغير زيه فقتل فدمه هدر‘‘.جس نے کسی غیر کاروپ و بھیس اختیار کرلیاپھروہ قتل کردیاگیا تواس کا خون معاف ہے۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
آپ ﷺ کا حضرت فاطمہ Rکو وتر کے بعد دوسجدے کرکے’’سبوح قدوس رب الملائكة والروح‘‘ پڑھنے پر
بہت سے فضائل کی بشارت دینا
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔