روایت: ’’نبیﷺ کا ارشاد ہے:’’الموت جسر يوصل الحبيب إلى الحبيب‘‘. موت ایک پل ہے جو ایک دوست کو دوسرے دوست سے ملا دیتا ہے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] لباب الحديث:ص:7۳،المكتبة التجارية الكبرى ـ مصر،الطبعة الأولى 1353هـ .
[2] المحبة لله سبحانه:ص:81 ،رقم:178ت:عبد الله بدران،دار المكتبي ـ دمشق،الطبعة الأولى1423هـ .
[3] كتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة:ص:116،ت:الصادق بن محمد بن إبراهيم،مكتبة دار المنهاج ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .
[4] إرشاد الساري شرح صحيح البخاري:9/295، المطبعة الكبرى الأميرية ـ مصر،الطبعة السادسة 1305هـ .
[5] فيض القدير:3/233،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية 1391هـ .
[6] الصحيح للبخاري:8/106،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،المطبعة الكبرى الأميرية ـ ببولاق،الطبعة 1312هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’مسواک میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوائے سام کے، اور سام موت ہے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو آدمی تہجد پڑھتا ہے، اس کے جسم کے اعضاء ایک دوسرے کو کہتے ہیں: ’’قد قام صاحبنا لخدمة الله تعالى‘‘. ہمارا ساتھی (آج رات) اللہ تعالی کی خدمت گزاری کےلئے کھڑا ہوگیا ہے‘‘۔
روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی عالم کو سہارا دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر قدم کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں، اور اگر کوئی آدمی محبت وعقیدت کی وجہ سے کسی عالم کے ماتھے یا سر پر بوسہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر بال کے بدلہ میں اس کو نیکی عطا فرماتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس بچے کا نام برکت کے لئے محمد رکھا تو وہ شخص اور بچہ جنت میں ہوں گے‘‘۔