روایت: ’’اللهم صل على محمد في الأولين، وصل على محمد في الآخرين، وصل على في النبيين، وصل على محمد في المرسلين، وصل على محمد في الملإ الأعلى إلى يوم الدين، وعلى آله وأصحابه أجمعين، اللهم آمنت بمحمد ولم أره، فلا تحرمني في الجنان رؤيته، وارزقني محبته، وتوفني على ملته، واسقني من حوضه شرابا سائغا لا نظمأ فيه بعدها أبدا، إنك على كل شيء قدير، اللهم بلغ روح محمد مني تحية وسلاما، اللهم وكما آمنت به، ولم أره، فلا تحرمني في الجنان رؤيته برحمتك، يا أرحم الراحمين!‘‘. اگر کوئی شخص نماز فجر اور مغرب کے بعد اس درود شریف کا تین تین بار ورد کرے تو 1 گناہ معاف ہوں2 درجات بلند ہوں3 غم واندوہ سے خلاصی نصیب ہو4 آنحضرت ﷺ کی محبت نصیب ہو5 ایمان والی موت نصیب ہو6 دشمنوں کے مقابلہ میں مدد نصیب ہو7 اور بہشت میں آپ ﷺ کی رفاقت نصیب ہو، اگر شب جمعہ میں گیارہ بار ورد کرے تو بہت نفع ہو۔
حکم: سنداً نہیں ملتی، اور ایسی خبر صرف آپ ﷺ کے ارشاد ہی سے معلوم ہوسکتی ہے، اس لئے اسے بیان کرنا موقوف رکھا جائے۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس درود شریف کو سات جمعے پڑھے، اور ہر جمعہ میں سات مرتبہ پڑھے، تو اس کےلئے میری شفاعت واجب ہوگی: ’’اللهم صل على محمد وعلى آل محمد صلاة تكون لك رضاء، ولحقه أداء، وأعطه الوسيلة، وابعثه مقام المحمود الذي وعدته، وأجزه عنا ما هو أهله، وأجزه أفضل ما جزيت نبيا عن أمته، وصل على جميع إخوانه من النبيين والصالحين، يا أرحم الراحمين!‘‘۔
روایت: جو شخص نماز فجر اور مغرب کے بعدیہ درود شریف پڑھے: ’’اللهم صل على محمد صلاة تكون لك رضا ولحقه أداء‘‘، تو حضور ﷺ کی قبر اور پڑھنے والے کی قبر کے درمیان طاقچہ کھول دیا جائے گا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔