روایت: ’’الغناء رقية الزناء‘‘. گانا زنا کا منتر ہے۔
حکم: یہ آپ ﷺ کا قول نہیں ہے، بلکہ مشہور قول کے مطابقیہ فضیل بن عیاض l کا قول ہے۔
یہ روایت سنداً مرفوعاً نہیں ملی۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] المصنوع:ص:۱۲۶،رقم:۲۰۳،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الثانية ۱۳۹۸هـ .
[2] الأسرارالمرفوعة:۲۵۲،رقم:۳۱۲،ت:محمد الصباغ،مؤسسة الرسالةـ بيروت،ا لطبعة۱۳۹۱هـ .
[3] كشف الخفاء:۲/۸۲،رقم:۸۱۴،مكتبة القدسي ـ القاهرة،الطبعة۱۳۵۱هـ .
[4] اللؤلؤ المرصوع:۱۲۷،رقم:۳۵۱،ت:فواز أحمد زمرلي،دار البشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[5] ذم الملاهي:ص:۵۵،رقم:۵۷،ت:عمرو عبد المنعم سليم،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴۱۶هـ .
’’حدثنا محمد، قال: حدثنا الحسين، قال:حدثنا عبد الله، قال: وحدثني الحسين بن عبد الرحمن، قال: قال فضيل بن عياض: الغناء رقية الزنا‘‘.
وفي نفس الكتاب:’’حدثنا محمد، قال: حدثنا الحسين، قال: حدثنا عبد الله، قال: حدثنا الحسين بن عبد الرحمن، قال: قال أبو عبيدة معمر بن المثنى: جاور الحطيئة قوما من بني كليب .... ولا تسمعوني أغاني شبيبتكم، فإن الغناء رقية الزنا‘‘ (ص:56،رقم:61).
ملتی جلتی احادیث
روايت: ’’ لكل شيء آفة، وللعلم آفات‘‘.ہر چیز کی آفت ہوتی ہے، اور علم کی بہت سی آفتیں ہیں۔
روایت: ایک کفن چور کا مردہ عورت سے زنا کرنا،پھر توبہ کرکےآپ ﷺ کی خدمت میں آنا۔
روایت: 1 جمعہ کے دن یا رات کے علاوہ انتقال کرنے والے گناہ گار مسلمان سے جمعہ کے دن اور رات کے آنے پر عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، پھر یہ عذاب قیامت تک نہیں لوٹتا 2 جمعہ کے دن اور رات میں کافر سے بھی عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد لوٹا دیا جاتا ہے۔
روایت: ’’ قلبك لي فلا تدخل فيه حب غيري، ولسانك ليفلا تذكر به أحدا غيري، وبدنك لي فلا تشغله بخدمة غيري،وإن أردت شيئا فلا تطلبه إلا مني‘‘.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرا دل میرے لئے ہے تو میرے غیر کی محبتاس میں داخل نہ کر، اور تیری زبان میرے لئے ہے تو اس سے میرےکسی غیر کو یاد نہ کر، اور تیرا بدن میرے لئے ہے تو اُسے میرے غیرکی خدمت میں مشغول نہ کر، اور جب تجھے کوئی چیز چاہیے ہو تومجھ ہی سے مانگ۔
ابلیس کو ایسی دعا کا یاد ہونا جس سے اللہ تعالی تمام گنا ہ معاف کردیں گے