جوشخص اذان کے وقت باتیں کرتا ہے اسے موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا
حکم: سنداً نہیں ملتی، سند ملنے تک اس کے بیان کرنے کو موقوف رکھا جائے۔
تفصیل
فائدہ (ضمنی روایت) :
اس روایت سے ملتی جلتی ایک دوسری من گھڑت روایت بھی زبان زد عام ہے،ملاحظہ ہو:
روایت: ’’من تكلم عند الأذان خيف عليه زوال الإيمان‘‘. جوشخص اذان کے وقت باتیں کرتا ہے اس کے ایمان کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من أكرم حبيبته وفي رواية كريمتيه لايكتب بعد العصر‘‘. جوشخص اپنی محبوب چیز، اور ایک روایت میں ہے دو مکرم چیزوں (یعنی آنکھوں) کا اکرام کرنا چاہے تو وہ عصر کی نماز کے بعد نہ لکھے۔
روایت: ’’جوشخص یہ چاہے کہ وہ جہنم کی آگ سے آزاد کردہ لوگوں کو دیکھے تو وہ علم کی طلب والوں کو دیکھ لے ۔۔۔ ‘‘ ۔
’’من صلى خلف عالم تقي فكأنماصلى خلف نبي‘‘.جس نے متقی عالم کےپیچھےنماز پڑھی گویا اس نےنبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔
چھ جگہوں پر باتیں کرنا چالیس سال کی عبادت کو ضائع کردیتا ہے