التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں۔

تفصیل

’’سوال:  جو لوگ وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں آیا کوئی اصل معتمد اس کی ہے یا نہیں؟

جواب:  جو وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : وضو کی دعائیں، ص: ۲۲۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔

یہ واضح رہے کہ بظاہر متعلقہ سوال وجواب خاص اس روایت کے بارے میں ہے جس میں اول تاآخر تمام اعضاء وضو ء پر ایک الگ مخصوص دعا بتائی گئی ہے(دیکھئے:المنار المنیف مع تعلیقات شیخ ابو غدہ، ص:۱۲۲)، خاص اس روایت کے بارے میں امام نوویl  ’’الاذکار‘‘ (ص:۲۴)میں فرماتے ہیں : ’’اعضاء وضوء پر دعاؤں میں نبیﷺ سے کچھ بھی منقول نہیں ہے‘‘، حافظ ابن قیم l نے ’’المنار المنیف‘‘ (ص:۱۲۲) میں اس روایت کو باطل کہا ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی l کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ثبوت سے قاصر ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی l کے اس روایت پر تعقبات کو  علامہ پٹنی l کی ’’تذکرة الموضوعات‘‘ (ص:۳۱)میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے:

{يا أنس! ادن مني، أعلمك مقادير الوضوء ... يكون ثواب ذلك التسبيح إلى يوم القيامة. فيه عبادة بن صهيب متهم، وقال البخاري والنسائي: متروك. وفيه أحمد بن هاشم اتهمه الدارقطني، وقد نص النووي ببطلان هذا الحديث وأنه لا أصل له، وتعقبه شارح المنهاج بأنه روي من طرق مثله عن أنس رواه ابن حبان في ترجمة عباد بن صهيب، وقد قال أبو داود: إنه صدوق قدري، وقال أحمد: ما كان صاحب كذب انتهى.

قال ابن حجر: يشهد المبتدئ في هذه الصناعة أنها موضوعة، ومعنى قول أحمد وأبي داود أنه كان لا يتعمد الكذب، بل يقع ذلك منه من غلطته وغفلته، ولذلك ترك وكذب، الرواي عن عباد ضعيف أيضا.

وروي مثله بزيادة بعض الأدعية عن الحسن البصري عن علي رفعه، وقال ابن حجر: حديث غريب، وفيه خارجة بن مصعب تركه الجمهور وكذبه ابن معين، قال ابن حبان: كان يدلس عن الكذابين رووها عن الثقات}.

ملتی جلتی احادیث