وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں۔
تفصیل
’’سوال: جو لوگ وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں آیا کوئی اصل معتمد اس کی ہے یا نہیں؟
جواب: جو وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : وضو کی دعائیں، ص: ۲۲۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
یہ واضح رہے کہ بظاہر متعلقہ سوال وجواب خاص اس روایت کے بارے میں ہے جس میں اول تاآخر تمام اعضاء وضو ء پر ایک الگ مخصوص دعا بتائی گئی ہے(دیکھئے:المنار المنیف مع تعلیقات شیخ ابو غدہ، ص:۱۲۲)، خاص اس روایت کے بارے میں امام نوویl ’’الاذکار‘‘ (ص:۲۴)میں فرماتے ہیں : ’’اعضاء وضوء پر دعاؤں میں نبیﷺ سے کچھ بھی منقول نہیں ہے‘‘، حافظ ابن قیم l نے ’’المنار المنیف‘‘ (ص:۱۲۲) میں اس روایت کو باطل کہا ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی l کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ثبوت سے قاصر ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی l کے اس روایت پر تعقبات کو علامہ پٹنی l کی ’’تذکرة الموضوعات‘‘ (ص:۳۱)میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
{يا أنس! ادن مني، أعلمك مقادير الوضوء ... يكون ثواب ذلك التسبيح إلى يوم القيامة. فيه عبادة بن صهيب متهم، وقال البخاري والنسائي: متروك. وفيه أحمد بن هاشم اتهمه الدارقطني، وقد نص النووي ببطلان هذا الحديث وأنه لا أصل له، وتعقبه شارح المنهاج بأنه روي من طرق مثله عن أنس رواه ابن حبان في ترجمة عباد بن صهيب، وقد قال أبو داود: إنه صدوق قدري، وقال أحمد: ما كان صاحب كذب انتهى.
قال ابن حجر: يشهد المبتدئ في هذه الصناعة أنها موضوعة، ومعنى قول أحمد وأبي داود أنه كان لا يتعمد الكذب، بل يقع ذلك منه من غلطته وغفلته، ولذلك ترك وكذب، الرواي عن عباد ضعيف أيضا.
وروي مثله بزيادة بعض الأدعية عن الحسن البصري عن علي رفعه، وقال ابن حجر: حديث غريب، وفيه خارجة بن مصعب تركه الجمهور وكذبه ابن معين، قال ابن حبان: كان يدلس عن الكذابين رووها عن الثقات}.
ملتی جلتی احادیث
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
حدیث قدسی: ’’تمام مخلوق میری رضا مندی طلب کرتے ہیں، اے محمدﷺ!اور میں تیری رضا طلب کرتاہوں‘‘، اس کی سند وصحت بندہ کو معلوم نہیں،اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے۔
’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
’’فرشتوں میں قراءت ِقرآن کی صفت نہیں ہے،اس لئے وہ قرآن سننے کے مشتاق ہوتے ہیں‘‘، اس مشہوربات کی کوئی اصل نہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔