نیک عورت کا اپنے خاوند سے پانچ سو(۵۰۰)سالپہلے جنت میں جانا
تفصیل
حوالہ جات
[1] صفة الجنة: ۲/ ۱۵۰، رقم: ۲۹۹، ت: علي رضا بن عبد الله، دار المأمون للتراث – دمشق،ط:۱۴۱۵ هـ .
[2] سند کے راویوں کے بارے میں ائمہ کے اقوال:
1 شهر بن حوشب (المتوفی:۱۱۲ هـ): حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’صدوق، كثير الإرسال والأوهام‘‘. یہ صدوق ہیں اور ان کی مراسیل اور اوہام زیادہ ہیں (تقريب التهذيب:ص:۲۶۹،رقم:۲۸۳۰)۔حافظ ذہبی l نے انہیں اپنی کتاب ’’ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق‘‘ (ص:۲۶۵،رقم:۱۶۲) میں ذکر کیا ہے،آپ فرماتے ہیں: ’’من علماء التابعين، وثقة أحمد وابن معين، وقال أبو حاتم: ما هو بدون أبي الزبير، وقال النسائي وغيره: ليس بالقوي‘‘.
2 رجل من أهل الشام: ابہام دور نہیں ہو سکا۔
3 محمد بن ثابت العبدی أبوعبدالله البصری:حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں: ’’صدوق لين الحديث‘‘. یہ صدوق،لین الحدیث ہے (تقريب التهذيب:ص:۴۷۱،رقم:۵۷۷۱)۔حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’قال غير واحد: ليس بالقوي د ق‘‘. ایک سے زائد محدثین نے انھیں ’’ لیس بالقوی‘‘ کہا ہے (الكاشف: ص:۱۶۱،رقم:۴۷۵۶)۔
4 یزید بن هارون أبو خالد السُلَمِي( المتوفی:۲۰۶هـ): حافظ ابن حجرl ’’تقريب التهذيب‘‘ (ص:۶۰۶، رقم:۷۷۸۹) میں فرماتے ہیں: ’’ ثقة، متقن، عابد‘‘. یہ ثقہ،عابد،متقن ہیں۔
5 یعقوب بن أبراهيم بن کثیر أبو یوسف الدَوْرَقِی(المتوفی:۲۵۲هـ):حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں: ’’ثقة، وكان من الحفاظ‘‘. (تقريب التهذيب: ص:۶۰۷،رقم:۷۸۱۲)۔
6 الحکم بن معبد بن أحمد أبو عبد الله الخزاعى(المتوفی:۲۹۵ هـ):حاظ ابونعیم اصبہانی l ’’تاريخ أصبهان‘‘ (ص:۲۹۵) میں فرماتے ہیں: یہ ثقہ اور کثیر الحدیث شخص ہیں۔
7 عبد الله بن محمد بن جعفر بن حيّان أبو محمد(المتوفى: ۳۶۹ هـ): یہ مشہور محدث ابوالشیخ اصبہانیl ہیں۔
[3] مسند البزار: مسند ابن عباس،۱/۳۷۷، رقم: ۵۲۰۹،ت: عادل بن سعد، مؤسسة القران- بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۹ هـ .
ملتی جلتی احادیث
اللہ کے راستے میں نکلنے پر پانچ سو(۵۰۰)فرشتوں کی حفاظت
ایک عورت کا چارآدمی کو جہنم میں لے جانا
ایک یہودی کا معراج کے واقعہ سے انکار پر عورت اورپھر مرد بن جانا
روایت: ’’إن يمين ملائكة السماء: والذي زيَّن الرجال باللُحى، والنساء بالذوائب‘‘.
ترجمہ: آسمان کے فرشتے اپنی قسم میں یہ الفاظ کہتے ہیں:قسم ہے اس ذات کی جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی، اور عورتوں کو مینڈھیوں سے۔
روایت: ’’ایک خاص دعا پڑھنے سےوالدین کا حق ادا ہو جائے گا‘‘۔