روایت: ’’إن يمين ملائكة السماء: والذي زيَّن الرجال باللُحى، والنساء بالذوائب‘‘.
ترجمہ: آسمان کے فرشتے اپنی قسم میں یہ الفاظ کہتے ہیں:قسم ہے اس ذات کی جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی، اور عورتوں کو مینڈھیوں سے۔
حکم: ساقط،بیان نہیں کر سکتے۔
تفصیل
مذکورہ متن تىن(۳) مختلف سندوں سےمرفوعاً ا ور موقوفاً منقول ہے:
1 حضرت عائشہ R کے طریق سے مرفوعاً
2 حضرت ابو ہریرہ r کے طریق سےموقوفاً
3 حضرت علی r كے طريق سے مرفوعاً
ذیل میں تینو ں سندوں کی تحقیق ذکر کی جائے گی۔
حضرت عائشہ R کاطریق مرفوعاً (آپ ﷺکا قول)
روایت پر ائمہ حدیث کا کلام
حسین بن داؤد بن معاذ بلخی (المتوفی ۲۸۲ ھ)کے بارے میں ائمہ کے اقوال
ابو ہریرہ r کا طریق،موقوف روایت(صحابی کاقول)
روایت پر ائمہ رجال کا کلام
حوالہ جات
[1] ’’ مسند فردوس‘‘ فی الوقت میسر نہیں ،البتہ ’’مسند فردوس‘‘ کی مذکورہ سند، ثانوی مرجع سلسلةالأحاديث الضعيفة ’’سے نقل کی جارہی ہے ، فانظر: سلسلةالأحاديث الضعيفة: ۱۴/ ۵۲، رقم:۶۰۲۵، مكتبة المعارف- الرياض .
[2] فيض القدير:۶ / ۱۴، رقم:۸۲۵۱، دارالمعرفة - بيروت، الطبعة الثانية: ۱۳۹۱هـ .
[3] تنزيه الشریعة: كتاب الأنبياءوالقدماء، الفصل الثالث،۱/ ۲۴۷، رقم: ۱۴، ت: عبد الله الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت ،ط:۱۴۰۱ هـ .
[4] تذكرة الموضوعات: ص:۱۶۰،كتب خانة مجيدية– ملتان .
[5] ذيل اللآلي المصنوعة:ص:۷۳، دار ابن حزم – بيروت.
[6] تاريخ بغداد: ۸/۵۷۶ ، رقم:۴۰۵۳،ت: بشارعوادمعروف.ط: دار الغرب الإسلامي– بيروت، ط:۱۴۲۲ هـ .
[7] الضعفاء والمتروكين: من اسمه حسین، ۱/ ۲۱۸، رقم: ۹۱۴، ت: عبد الله القاضي، دار الكتب العلمية– بیروت، ط:۱۴۰۶ هـ .
[8] تاريخ الإسلام:۲۱/ ۱۵۹، رقم:۲۲۵، ت: عمر عبدالسلام تدمري، دار الكتاب العربي– بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .
[9] المغني في الضعفاء: ص:۲۶۰،رقم: ۱۵۷۳، ت: نورالدين عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[10] تنزيه الشریعة: ۱/ ۵۲،رقم: ۱۰، ت: عبد الله الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت ،ط:۱۴۰۱ هـ .
[11] تاريخ مدينةدمشق: حرف العين ،۳۶ / ۳۴۳، ت: عمربن غرامة، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۱۵ هـ .
[12] ا بن عساکر l کے مطبوعہ نسخے میں یہ لفظ ’’فأولت‘‘ ہے،اور بظاہر یہاں اس کا کوئی مطلب بن بھی نہیں بن سکتا، چنانچہ دیگر حضرات جنہوں نے ابن عساکر l کی اس عبارت کو ذکر کیا ہے، انہوں نے اس لفظ کو ’’ولیت‘‘ لکھا ہے، جیسا کہ ابن حجر l نے ’’لسان المیزان‘‘میں لکھاہے، اسی طرح ’’ لسان المیزان‘‘ میں’’نخشبی‘‘ کی جگہ ’’یحسبی‘‘لکھاہے ۔
[13] تاريخ مدينةدمشق: حرف العين۳۶ / ۳۴۳، ت: عمربن غرامة، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۱۵ هـ .
[14] ذيل اللآلي المصنوعة:ص:۷۳، دار ابن حزم – بيروت.
[15] لسان المیزان:حرف المیم، ۷/ ۵۱۲، رقم: ۷۳۱۷، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .
[16] تنزيه الشریعة:كتاب الأنبياءوالقدماء، الفصل الثالث،۱/ ۲۴۷، رقم: ۱۳،ت: عبد الله الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت،ط:۱۴۰۱هـ .
[17] سير أعلام النبلاء:۱۵/ ۳۸۷ رقم:۲۱۰.ت: شعيب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة – بيروت،ط:۱۴۰۲ هـ .
[18] تاریخ الإسلام: ۱۵/ ۳۸۷، رقم: ۲۲۵، ت: عمر عبدالسلام تدمری، دار الكتاب العربي– بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .
[19] لسان المیزان: حرف المیم، ۷/ ۵۱۲، رقم: ۷۳۱۷، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .
[20] الحاوي للفتاوي: ص: ۲/۳۹، ت: عبد اللطيف حسن، دار الكتب العلمية – بيروت،ط: ۱۴۲۱هـ .
[21] كشف الخَفَا:۲ /۳۱۱، رقم:۲۵۳۹، ت:يوسف بن محمود الحاج أحمد، مكتبة العلم الحديث ـ دمشق،۱۴۲۱ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔
روایت : ’’ من زار العلماء فكأنما زارني، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني، ومن جالسني في الدنياأجلس إليّ يوم القيامة‘‘.
ترجمہ: جس نے علماء کی زیارت کی،گویا کہ اس نے میری زیارت کی،جس نے علماء سے مصافحہ کیا، گویا کہ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا،جس نے علماء کی ہم نشینی اختیارکی،گویا کہ اس نے میری ہم نشینی اختیار کی،اور جس نے دنیا میں میری ہم نشینی اختیار کی اللہ تعالی آخرت میں اسے میری ہم نشینی عطا فرمائیں گے۔
روایت: ’’گوہ کا آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دینااور اعرابی کا مسلمان ہونا‘‘۔
روایت: ’’إذاسلِم رمضان سلِمت السنة، وإذا سلِمت الجمعة سلِمت الأيام ‘‘.
اگر رمضان شریف ٹھیک رہا،تو پورا سال ٹھیک رہےگا، اور اگر جمعہ ٹھیک رہا تو پورا ہفتہ ٹھیک رہے گا۔
روایت: ’’من امتشط قائما ركبه الدين‘‘.
ترجمہ: کھڑے ہو کر کنگی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔