امام،محقق،محدث العصر،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری l کا اجمالی تعارف
تفصیل
حضرت مولانا محمد یونس صاحب l اپنی طفولیت وتعلیمی نشیب وفراز کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتےہیں:
’’ولادت: صبح ۷ بجے، بروز شنبہ، ۲۵ رجب ۱۳۵۵ھ،۲اکتوبر ۱۹۳۷ء،
ابتداءً جب عمر چھ سات سال کے مابین ہوئی اپنے شوق سے ایک مکتب میں جانا شروع کیا .... پھر کچھ دنوں کے بعد ایک پرائمری اسکول ہمارے گاؤں میں قائم ہوگیا، اس میں جانے لگے، درجہ دوم تک وہاں پڑھا پھر درجہ ٔ سوم کے لئے مانی کلاں کے پرائمری اسکول میں داخلہ لیا، سوم پاس کرنے کے بعد والد صاحب نے یہ کہہ کر چھڑا دیا کہ انگریزی کا دور نہیں اور ہندی میں پڑھانا نہیں چاہتا ..... پھر تقریباً ۱۳سال کی عمر میں مدرسہ ضیاء العلوم قصبہ مانی کلاں میں داخلہ ہوا، ابتدائی فارسی سے لے کر سکندر نامہ تک اور پھر ابتدائی عربی سے لے کر ’’مختصر العانی‘‘، ’’مقامات‘‘، و’’شرح وقایہ‘‘، و’’نورالانوار‘‘ تک وہیں پڑھیں۔
اکثر کتابیں استاذی مولانا ضیاء الحق صاحب سے اور’’شرح جامی‘‘ بحث اسم حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب مدظلہ العالی سے، مگر کثرت امراض کی وجہ سے بیچ میں طول فترات واقع ہوتی رہیں، اس لئے تکمیل کافی مؤخر ہوگئی۔پھر یہ بھی پیش آیا کہ کہ ہماری جماعت ٹوٹ گئی، ہم نے اولاً ’’شرح جامی،شرح وقایہ،نورالانوار‘‘ مولانا ضیاء الحق صاحب سے پڑھی تھیں، مگر جماعت نہ ہونے کی وجہ سے حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب نے اگلے سال پھر انھیں کتابوں میں داخل کردیا اور خود پڑھایا۔
اس کے بعد شوال۱۳۷۷ھ میں مدرسہ مظاہر علوم میں بھیج دیا، یہاں آکر پہلے سال’’جلالین،ہدایہ اولین، میبذی‘‘ اور اگلے سال ’’بیضاوی،سلّم، ہدایہ ثالث، مشکوۃشریف‘‘ اور تیسرے سال یعنی شوال ۱۳۷۹ھ شعبان ۱۳۸۰ھ دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کی، اور اس سے اگلےسال کچھ مزید کتابیں ’’ہدایہ رابع،صدرا،شمس بازغہ، اقلیدس،خلاصۃ الحساب،درمختار‘‘ پڑھیں‘‘۔[1]
مہتمم دار العلوم لسٹر،ومدیر مجلس دعوة الحق یوکے،علامہ محمد ایوب سورتی صاحب، حضرت مولانا محمد یونس صاحب l کے تدریسی ارتقائی ادوار کو ان لفظوں میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ شوال ۸۱ھ سے آپ مدرس ہوئے، دو تین سال متوسطات کی کتب پڑھائیں پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی ترقی کے غیبی اسباب اس طرح پیدا فرمادیے کہ چند سالوں میں ہی تدریس کی اوج ثریا پر پہنچ گئے اور ’’بخاری شریف‘‘ پڑھا کر شیخ الحدیث مقرر ہوئے، آپ کی علمی عظمتوں اور تدریسی صلاحیتوں کا تمام اکابر نے اعتراف کیا، بالخصوص آپ کے شیخ ومرشد، محدث وقت، حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی l ثم المہاجر المدنی نے آپ کو اس طرح حدیث شریف کے لئے تیار کیا جس طرح حضرت شیخ کو ان کے شیخ واستاذ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب مہاجر مدنی l نے تیار کیا تھا، چنانچہ حضرت شیخ کے نام حدیث شریف سے متعلق بہت سے سوالات آتے رہتے تھے، جو آپ حضرت استاذ محترم کے پاس بھیج دیتے اور استاذمحترم اس کے تفصیلی جوابات مدلل تحریر فرماکر واپس کرتے جبکہ ابھی آپ نے حدیث شریف کی کوئی کتاب پڑھائی بھی نہیں تھی، چنانچہ ۸۳ھ اور ۸۴ھ کے لکھے ہوئے جوابات اسی مجموعہ میں شامل ہیں جن سے استاذمحترم کے مناسبت فی الحدیث کا پورا پورا ثبوت ملتا ہے۔
اور وہ غیبی انتظام من جانب اللہ یہ ہوا کہ جن چار اساتذۂ حدیث کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ طے کیا اور دورہ کی تمام کتابیں پڑھیں، اگلے چار برسوں میں دو اساتذہ جوارِ رحمت میں پہنچ گئے، یعنی حضرت مولانا امیر احمد صاحبl اور حضرت مولانا منظور احمد خاں صاحبl اور دو اساتذۂ حدیث یعنی حضرت اقدس شیخ زکریا l اور حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب l نے اپنی ضعف وپیری اور عوارض وامراض کی وجہ سے ترکِ تدریس کا فیصلہ کرلیا، بالخصوص حضرت شیخ زکریا l کے قلب میں تو عشق ومحبت کی وہ چنگاریاں دبی ہوئی تھیں، جو ان کو حرمین شریفین کے قیام وہجرت پر مجبور کررہی تھیں، مگر ان دونوں حضرات کے سامنے اپنے اکابر وبزرگوں کے لگائے ہوئے پودےمظاہر علوم کی فکر تھی کہ کہیں مخالف وتندو تیز ہواؤں میں اس پر کوئی آنچ نہ آئے،اس لئے اس کی آبیاری اور بنیاد کے مضبوط رکھنے کی فکر اپنے قیام سے زیادہ تھی۔
میں تو یہی سمجھتا ہوں، حالات وسیاست کا مجھے پتہ نہیں اور میں اس سے قلباً وقالبًا ہزاروں میل دور ہوں ’’والحمد لله على ذالك‘‘ کہ کسی بھی ادارہ میں دو منصب اہم ہوتے ہیں ایک ناظم ومہتمم کا اور ایک شیخ الحدیث کا، اور ان دونوں اکابر کے سامنے یہ منصب اس کے اہل کو سپرد کرنے کی فکر اور اس کا داعیہ تھا اس لئے وعید نبوی بھی ہے، ’’إذا وسد الأمر إلى غير أهله، فانتظر الساعة‘‘ [جب معاملات نا اہل لوگوں کے حوالے کر دیے جائیں گے، تو پھر قیامت کا انتظار کرو] چنانچہ مناسبت واستعداد کو دیکھ کر حضرت اقدس مولانا مفتی مظفر حسین صاحب l کو ناظم مدرسہ کے لئے اور حضرت الاستاذ مولانا محمد یونس صاحب کو شیخ الحدیث کے لئے رفتہ رفتہ تیار کیا اور جب جس کا موقع آیا اس کو وہ منصب سپرد کردیا گیا۔
بہرحال ہمارے استاذ محترم کو تدریس کے چوتھے سال ہی حضرت مولانا امیر احمد صاحب l کے انتقال کی وجہ سے ’’مشکوۃ شریف‘‘سپرد کی گئی، جس کو آپ نے بہت ہی محنت وتحقیق سے پڑھایا، پانچویں سال بھی ’’مشکوۃ شریف‘‘ وغیرہ کتب زیرِ درس رہیں، چھٹے سال ’’ابوداؤد شریف‘‘ساتویں سال’’مسلم شریف‘‘ پڑھائی، جب ان تمام کتابوں کو پوری نیک نامی وعلمی شہرت کے ساتھ پڑھانے میں آپ کامیاب ہوگئے تو اس وقت اکابر کے مشورہ سے حضرت اقدس شیخ نے ’’بخاری شریف‘‘ حضرت الاستاذ کو سپرد کردی۔
احقر ان دنوں ’’مظاہرعلوم‘‘ میں متوسطات کا طالب علم تھا، اور اس وقت کا شاہد عینی ہے کہ جب ’’بخاری شریف‘‘ کے منتقل ہونے کا اعلان کیا گیا تو مظاہر کے دورہ کے طلبہ کی نگاہوں میں عجیب کرب واضطراب کی لہریں دوڑ رہی تھیں، اور گو حضرت الاستاذ کتنے ہی قابل ولائق ہوں مگر حضرت شیخ کی عمر اور بزرگی، اور نسبتِ مشائخ اور کثرتِ تصنیف وتالیف کی وجہ سے جو مقام تھا ان کی عظیم مسند کو پر کرنا مشکل ہی معلوم ہورہا تھا، بالخصوص اس سال دورہ میں بعض وہ طلبہ بھی تھے جو حضرت شیخ کے خدام ومخصوصین میں تھے اور انھیں اس کا بڑا قلق تھا کہ ہمیں حضرت شیخ سے پڑھنا نصیب نہیں ہورہا ہے، اور وہ اپنے قلق کا اظہار مختلف طریقوں سے کر رہے تھے، غالبًا انتظامیہ تک بھی یہ اضطراب پہنچ گیا، اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے حضرت شیخ نے ایک اعلان لگوایا جو خود میں نے دار الطلبہ قدیم کے ’’لوح الاعلانات‘‘ پر پڑھا جس کا مختصر مضمون یہ تھا کہ:
’’میں نے اپنے ضعف اور اعذار کی بناپر ’’بخاری شریف‘‘ پڑھاناموقوف کیا ہے، اور مولانا یونس صاحب کو منتقل کیا ہے، جسے پڑھنا منظور ہو وہ پڑھے ورنہ کسی اور مدرسہ میں داخلہ لے لے‘‘۔
اس اعلان کے بعد فضا میں کچھ سکون پیدا ہوا اور تعلیم جاری ہوگئی، خوب یاد ہے کہ جیسے ہی حضرت الاستاذ نے ’’بخاری شریف‘‘ شروع کی اور وہ شور انتشار موقوف ہوا اور پھر پورے اطمینان اور آب وتاب کے ساتھ درس جاری ہوگیا۔
اب یہ بات حقیقت واقعہ بن کر سامنے آرہی ہے کہ حضرت شیخ کی دور بین نگاہیں کیا دیکھ رہی تھیں کہ الحمد للّٰہ چالیس برس سے درس’’بخاری‘‘ کا فیض مسلسل جاری ہے، اور حدیث پاک میں اس قدر انہماک واشتغال ہے کہ حدیث کی پہچان بن گئے اور مظاہر علوم کی جو شان تھی کہ حدیث شریف کی شرح وتحقیق میں ابتداء ہی سے اس کا بڑا حصہ رہا ہے اس کو درس وتدریس کے ذریعہ پورا فرمادیا، اور خود مظاہر علوم ان آخری ادوار میں حضرت الاستاذکی برکت سے ہی دورہ حدیث کے پڑھنے پڑھانے کا مرجع ومرکز بنا ہوا ہے، ہر سال کتنے طلبہ اپنے اپنے اداروں سے فارغ ہو کر ’’بخاری شریف‘‘ پڑھنے کے لئے مظاہر علوم آتے ہیں‘‘[2]۔
استاذ دار العلوم ندوہ،حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ،حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ کے اس وہبی انتخاب کو ان لفظوں میں تعبیر فرماتے ہیں:
’’دورِ حاضر میں اگر فنی نظر رکھنے والے بلند پایہ محدثین کی مختصر سی فہرست بنائی جائے تو اس میں ممتاز ترین نام حضرت مولانا محمد یونس صاحب،شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور انڈیا کا ہوگا، موصوف بلاشبہ اپنے بزرگوں کی زندہ یادگار ہیں۔
مظاہر علوم میں چند سال کی تدریس کے بعد ۱۳۸۸ھ میں ان کے استاذ ومربی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا l صاحب نے انہیں اپنی جگہ مظاہر علوم کا شیخ الحدیث مقرر فرمایا اور درس بخاری کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال دی، اس وقت موصوف کی عمر ۳۳سال تھی،اتنی کم عمری اور اکابر اساتذہ کی موجودگی میں موصوف کو اتنے عظیم منصب پر فائز کئے جانے سے کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی اور شکایت بھی ہوئی، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ اس انتخاب کا حسنِ انتخاب لوگوں پر روشن ہوتاگیا،اور وقت نے ثابت کردیا کہ حضرت شیخ نے جس نوجوان کو اس عظیم منصب پر فائز کیا وہ ہر طرح سے اس منصب کا اہل تھا، اس نے اپنے اکابر کی علمی روایات کے تسلسل کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ انہیں مزید پروان چڑھایا‘‘۔
حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ مزید لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد یونس صاحب دامت برکاتہم کی عمر عزیز درس حدیث میں گذری، انہوں نے کتابوں کی تدریس پراکتفا نہیں کیا بلکہ علوم اسلامیہ خصوصاً فن حدیث نیز علم رجال کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا، کتبِ احادیث ورجال کا پورا پورا ذخیرہ کھنگال ڈالا،غیر معمولی قوتِ حافظہ اور کتبِ احادیث ورجال کے مسلسل مطالعہ اور مزاولت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں حدیث وعلوم حدیث میں خصوصی مناسبت عطافرمائی، بلکہ انہیں اس میدان میں امامت کے منصب پر فائز فرمایا، موصوف درس وتدریس، مطالعہ وتحقیق میں ایسے مشغول ومنہمک رہےکہ انہیں باقاعدہ تصنیف کی طرف توجہ کرنے کا موقع نہ مل سکا، اس لئے بہت سے اہل علم ان کے بلند ترعلمی وفنی مقام سے واقف نہ ہوسکے، لیکن جن حضرات کو موصوف کے ساتھ مختصر سی مختصر علمی صحبت میسّر آئی ہو اور بعض علمی موضوعات پر گفتگو کا موقع ملا ہو وہ جانتے ہیں کہ اس علمی سمندر میں کیسے کیسے آبدار موتی پنہاں ہیں۔۔۔‘‘[3]۔
مہتمم ’’ا لمعہد الاسلامی‘‘ مانک مئو سہارنپور،مولانامحمد ناظم ندوی صاحب، علوم الحدیث میں آپ کے منصب کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’اس فن پر آپ کی گرفت ہے،اور اس وقت آپ اس بارے میں کسوٹی اور محکم الحدیث کی حیثیت رکھتے ہیں،یہ فضل الٰہی اور امتیازی خصوصیت ہے جو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے آپ کو ودیعت فرمائی گئی ہے،اللہ تعالیٰ جب کسی کو نوازتے ہیں اس کے ساتھ ویساہی معاملہ فرماتے ہیں،متنِ حدیث،سندِ حدیث اور حدیث کے مقتضیات ومطالبات اور اس کے معانی ومفاہیم پر نہ یہ کہ آپ کو گرفت ہے بلکہ بفضل ایزدی اس کا القاء ہوتا ہے۔
بارہویں صدی ہجری میں جس طرح قرآنی علوم، اللہ تعالیٰ نے حجۃ الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی l کو عطافرمایا تھا جس کوانہوں نے بہت سے مقامات پربطور تحدیثِ نعمت کے بیان بھی فرمایا ہے،اس زمانہ میں حدیث کا علم حق تعالیٰ شانہ نے اسی طرح آپ کو عطا فرمایا ہے، جس کا ایک موقعہ پر آپ نے تحدیث بالنعمہ کے طور پر اظہار بھی فرمایا ہے،پھر آپ کی تحقیقات،روایت پرنقد،وسعت ِمطالعہ اور متقدمین ومتأخرین کی کتابوں پر بھرپور نقدوتبصرہ، اور علامہ ابن حجرالعسقلانیl جیسے جبل العلم فی الحدیث کے مسامحات کا تذکرہ،یہ وہی شخص کرسکتا ہے جس نے پوری بصیرت،انہماک، عشق کے سوز اور مجتہدانہ فراست کے ساتھ پورے ذخیرۂ احادیث کو کھنگال ڈالا ہو۔
دراصل ابتداء ہی سے آپ نے علم حدیث کے ساتھ اشتغال رکھا اور اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا، آپ خود فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کسی سے کچھ پیسے میسر آجاتے تو ان سے حدیث کی کتابیں خرید لیتا،حضر ت الاستاد قطب العرب والعجم نے جب بھی ہدیۃً کچھ پیسے عنایت فرمائے تومیں نے ان کی کتابیں خرید لیں اور آپ کی قیام گاہ پر اپنا ذاتی علم حدیث کا اتنا بڑا ذخیر ہ ہے کہ شاید ہی برصغیر میں کسی کے پاس ہو بلکہ بڑے بڑے کتب خانے بھی ان امہات کتب سے خالی ہیں، اس کے باوجود حج کے موقع پر کتب خانوں میں نئی نئی کتابیں تلاش کرنے کے لئے جاتے ہیں،حالانکہ اس نشیب وفراز والےراستے سےگزرتے ہوئے آپ کا سانس پھولنے لگتا ہے،پیشانی عرق آلود ہوجاتی ہے،لیکن ان سب پریشانیوں کے باوجود آپ کے علمی مطالعہ اور ذوق کا اندازہ کچھ وہی حضرات لگاسکتے ہیں جوآپ سے کچھ آشنا ہیں‘‘۔[4]
آپ کو صرف علم حدیث ہی پر دسترس نہیں تھی، بلکہ دیگر اسلامی علوم وفنون پر مکمل مہارت وعبورہے،چنانچہ مولانا ناظم ندوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ کو صرف فن حدیث ہی پر مکمل گرفت نہیں، یہ تو آپ کی امتیازی خصوصیت ہے،ورنہ دیگر علوم وفنون،صرف ونحو،عروض ومعانی، نقد و بلاغت، منطق وفلسفہ،کلام وعقائد،زبان وادب،فقہ وتفسیر وغیرہا پر بھی مکمل درک ہے،آپ نے ابتداء میں حدیث کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں پڑھائی ہیں اور ان فنون کا حق ادا کیا ہے،اس کے علاوہ تاریخ وجغرافیہ،سیروسوانح،اور قوموں وملکوں کے حالات پر بھی آپ کی گہری نظر ہے، جب بھی مجلس میں کوئی موضوع زیر بحث آجاتاہے اس پر سیر حاصل مواد میسر ہوتا ہے‘‘[5]۔
ملتی جلتی احادیث
’’الیواقیت الغالیه فی تحقیق و تخریج الأحادیث العاليه‘‘ کا مختصر تعارف
[میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ’’ مُنَبِّہَات‘‘ نہ تو حافظ ابن حجر عسقلانی l کی تصنیف ہے اور نہ ہی علامہ ابن حجر ہیتمی مکی lکی تالیف ہے]
روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔
میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
روایت: ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ، حدیث میں نہیں ہے، البتہ امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ اس طرح کاٹا جائے۔
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]