التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)

روایت: ’’من استوى يوماه فهو مغبون‘‘. جس شخص کے دونوں دن (اعمال کے اعتبار سے) برابر ہوں وہ شخص خسارے میں ہے ۔

حکم: آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بیان نہیں کر سکتے،مشہور قول کے مطابق یہ روایت عبدالعزیز بن ابی رَوَّاد کے خواب سے جانی گئی ہے۔

تفصیل

روایت پر ائمہ کاکلام

اہم نوٹ: عبدالعزیز بن ابی رَوَّاد کے خواب کے متعلق تفصیل آگے آرہی ہے۔

تتمہ: اس کے تحت دو فائدے لکھے جائیں گے۔

حوالہ جات

[1]  إحياء علوم الدين:۱۴/ ۲۶۴۰، دارالشعب – قاهرة .

[2]  المغني عن حمل الأسفار:۱/ ۱۱۵۵، رقم:۴۱۸۷، ت: أشرف عبد المقصود، مكتبة طبرية – الرياض، ط:۱۴۱۵ هـ .

[3] المصنوع في معرفة الحديث الموضوع:ص:۱۷۴، رقم:۳۱۱، ت:عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، ط:۱۴۱۴ هـ .

[4]  اللؤلؤ المرصوع: ص:۱۷۴، رقم:۵۳۰، فواز أحمد زمرلي، دار البشائر الإسلامية–  بيروت، ط:۱۴۱۵ هـ .

[5]  تذكرة الموضوعات:ص:۲۲،کتب خانة مجیدیة – ملتان  .

[6]  الزهد الكبير:ص:۳۶۷، رقم:۹۸۷، ت:عامر أحمد حیدر، دار الجنان –  بيروت، ط:۱۴۰۸ هـ .

[7]  حافظ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا l  ’’المنامات‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’حدثنا أبو بكر، حدثني سلمة بن شَبِيْب، حدثني سهل بن عاصم، عن الحسين بن موسى الخراساني، عن شيخ من بني سليم قال: رأيت النبي في منامي فقلت: يا رسول الله! ما حالك، قال: أحدثك؟ قلت: حدثني، قال: من استوى يوماه فهو مغبون، ومن كان غده شرا من يومه فهو ملعون، ومن لم يكن في زيادة فهو في نقصان، ومن كان في نقصان كان الموت خيرا له‘‘.(المنامات:ص: ۱۱۶، رقم: ۲۴۳) ترجمہ:  بنی سلیم کے ایک شیخ کہتےہیں کہ میں نےخواب میں آپﷺ کو دیکھا اور میں نے کہااے اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے ؟آپ ﷺ نے کہا:کیاتجھے حدیث بیان کروں ؟میں نے کہا: جی کیجئے،آپ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کے دونوں دن برابر ہوں وہ نقصان میں ہے،اور جس کا آنے والا دن پہلے والے سے براہے وہ ملعون ہے،اورجو ترقی نہیں پارہاوہ نقصان میں ہے اور جونقصان میں ہے اس کے لئے موت بہتر ہے‘‘۔

[8] حافظ خطیب بغدادی l’’ اقتضاء العلم العمل‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’أخبرنا ابن رِزْق، قال: أنبأ عثمان بن أحمد،ثنا محمدبن أحمدبن البراء، ثنا داودبن رُشَيْد، ثنا الوليدبن صالح،عن رجل، رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم، فقال لي: ’’من استوى يوماه فهو مغبون،ومن كان غده شريوميه فهوملعون ،ومن لم يعرف النقصان من نفسه فهو إلى نقصان، ومن كان إلى نقصان فالموت خير له‘‘.( اقتضاء العلم العمل: ص:۱۱۲، رقم:۱۹۶) ترجمہ:  ایک شخص کہتےہیں کہ میں نےخواب میں آپﷺ کو دیکھا اور میں نے کہااے اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے ،آپ ﷺ نے کہا ،کیاتجھے حدیث بیان کروں ،میں نے کہا : جی  کیجئے،آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے دونوں دن برابر ہوں وہ نقصان میں ہے، اور جس کا آنے والا دن پہلے والے سے براہے وہ ملعون ہے ،اورجو اپنے ذاتی نقصان کو نہیں پہچانتا تو وہ نقصان کی جانب گامزن ہے، اور جونقصان میں ہے اس کے لئے موت بہتر ہے۔

[9] حافظ ابونعیم اصبہانی l ’’حلية الأولياء‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’أخبرني جعفر بن محمد بن نُصَيْر، وحدثني عنه عمر بن أحمد بن شاهين، حدثنا إبراهيم بن نَصَّار، حدثني إبراهيم بن بَشَّار، قال: سمعت إبراهيم بن أدهم، يقول: بلغني أن الحسن البصري رأى النبي صلى الله عليه وسلم في منامه، فقال: يا رسول الله! عظني، قال: من استوى يوماه فهو مغبون، ومن كان غده شرا من يومه فهو ملعون، ومن لم يتعاهد النقصان من نفسه فهو في نقصان، ومن كان في نقصان فالموت خير له‘‘ .( حلية الأولياء:۸/ ۳۵) ترجمہ:  آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے دونوں دن برابر ہوں وہ نقصان میں ہے اور جس کا آنے والا دن پہلے والے سے براہے وہ ملعون ہے،اورجس نےاپنے نفس کو نقصان سے بچانےکے لئے نفس کی اصلاح نہ کی وہ نقصان میں ہے، اور جونقصان میں ہے اس کے لئے موت بہتر ہے۔

[10] المصنوع في معرفة الحديث الموضوع:ص:۱۷۴، رقم:۳۱۱، ت: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، ط:۱۴۱۴ هـ .

[11]  الفردوس بمأثور الخطاب:۳/ ۶۱۱، رقم:۵۹۱۰، ت: السعيد بن بسيوني زغلول، دار الكتب العلمية –  بيروت، ط:۱۴۰۶ هـ .

[12]  المقاصد الحسنة:ص:۴۶۱، رقم:۱۰۷۸، ت:محمد عثمان الخشت، دار الکتاب العربی ـ بیروت .

[13] اللآلئ المنثورة:ص:۹۱، رقم:۱۱۷، ت: محمد بن لطفي الصباغ، المكتب الإسلامي–  بيروت، ط:۱۴۰۶ هـ .

[14] الدرر المنتثرة:حرف المیم، ص: ۲۲۳، ت:محمد عبدالقادر عطاء، دار الكتب العلمية– بيروت، ط:۱۴۰۸ هـ .

[15]  الفردوس بمأثور الخطاب:۳/ ۶۱۱، رقم:۵۹۱۰، ت: السعيد بن بسيوني زغلول، دار الكتب العلمية –  بيروت،ط:۱۴۰۶ هـ .

[16]  الفردوس بمأثور الخطاب:۳/ ۶۰۲، رقم:۵۸۸۶، ت: السعيد بن بسيوني زغلول، دار الكتب العلمية–  بيروت، ط:۱۴۰۶ هـ .

اس دوسرے حصے کے فنی مقام پر یہاں بحث نہیں کر رہے ہیں،کیونکہ یہ روایت ضمناً آگئی ہے۔

[17]  حلية الأولياء:۵/ ۱۰، دارالکتب العلمية – بیروت، الطبعةالأولی: ۱۴۰۹ هـ..

صرف دوسرے حصہ (ومن اشتاق إلى الجنة سے  هانت عليه المصيبات تک) کو مذکورہ سند سے حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘ (۱۴/ ۳۰) میں مرفوعاً،امام بیہقی l نے ’’شعب الإيمان‘‘ ( ۱۳/ ۱۷۸، رقم: ۱۰۱۳۹) میں موقوفاً، حافظ ابن جوزی l نے ’’ كتاب الموضوعات‘‘ (۲/ ۱۸۰) میں مرفوعاً،امام سیوطی l نے ’’اللآلي المصنوعة‘‘ (۲/ ۳۰۱) میں مرفوعاً تخریج کیا ہے۔