میرا بستر سمیٹ دو،اب میرے آرام کے دن ختم ہوگئے
تفصیل
حوالہ جات
[1] في ظلال القرآن: سورة البقرة،۱/ ۷۶، صنفه: سيد قطب إبراهيم حسين الشاربي، دار الشروق – بيروت، ط:۱۴۲۳ هـ .
[2] سنن ابن ماجه:کتاب الجنائز،۱/ ۵۲۱، رقم: ۱۶۲۹، ت: محمد فؤاد عبد الباقي، دار الفكر – بيروت، ط: ۱۳۷۳ هـ .
[3] شروح سنن ابن ماجه(مصباح الزجاجة):۲/ ۶۴۸، رقم:۱۶۲۹، ت: رائد بن صبری، بیت الأفکار الدولیة – الرياض، ط:۲۰۰۷ م .
[4] الشمائل المحمدية:ص: ۱۸۴،رقم:۲۲۶،ت:سید بن عباس الجَلیمی،المکتبة التجاریة– مکة المکرمة، ط:۱۴۱۳ هـ .
[5] مجمع الزوائد:۸/ ۴۹۴، رقم:۱۴۰۲۶، ت: عبدالله محمد درويش، دار الفكر– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من استوى يوماه فهو مغبون‘‘. جس شخص کے دونوں دن (اعمال کے اعتبار سے) برابر ہوں وہ شخص خسارے میں ہے ۔
آپﷺ کا ابوبکرصدیقr کویہ کہنا:جومیرا کام ہے وہ تمہارا کام ہے
جان بوجھ کرنماز چھوڑنے پر ایک حقب جہنم میں جلنا
حضرت بلالr نے اذان نہیں دی توصبح نہیں ہورہی تھی
آپ ﷺ کا مشرک مہمان کے پاخانے والے بستر کواپنے ہاتھ سے صاف کرنا