بعض مشہورمن گھڑت روایات،نیز غیر مستند کتابیں
تفصیل
’’سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین دربارۂ دعائے ’’ کنز العرش مطبوعہ‘‘ و ’’عہد نامہ‘‘ و’’ درود لکھی‘‘ و’’درودِ تُنْجِیْنَا‘‘ و’’درود تاج‘‘ وغیرہ کہ ان کی جو خاصیات وتاثیرات اور اسناد وغیرہ لکھی ہوئی ہیں وہ صحیح ہیں یا نہیں؟ اور ان پر اعتقاد رکھنا چاہئے یا نہیں ؟
جواب: اسانید دعائے ’’کنز العرش‘‘ کی بالکل بے اصل اور بالیقین موضوع وباطل ہیں، ان اسانید کو دیکھنا اور اس پر اعتقاد کرنا جائز نہیں، اگر دیکھے تو رد کرنے کےلئے دیکھے جیسا کہ روایاتِ موضوعہ کا حکم ہے، اور ’’عہد نامہ‘‘ کی اسانید کا بھی یہی حکم اور حال معلوم ہوتا ہے، اور ’’درود لکھی‘‘ کی اسناد محمود غزنوی l کا خواب لکھا ہے، وہ حجتِ شرعیہ نہیں ہے، یعنی اگر بالفرض انہوں نے خواب میں ایسا دیکھا بھی ہو تو کچھ حجت نہیں ہے، اور بظاہر یہ خواب بھی صحیح نہیں ہے اور اس کی سند نہیں ہے، اور ’’درودِ تُنْجِیْنَا‘‘ کے بارے میں جو ’’مناہج الحسنات‘‘ سے قصہ نقل کیا ہے وہ ممکن ہے کہ صحیح ہو اور اس درود شریف کی برکت سے جہاز ڈوبنے سے بچ گیا ہو، مگر یقین اس سند کا بھی نہیں، البتہ ممکن ہے کہ ایسا ہوا ہو، لہٰذا اس کے انکار کی بھی ضرورت نہیں ہے، صرف اس قدر اعتقاد رکھے کہ اگر ایسا ہوا ہو تو ممکن ہے اور اس میں کوئی محذور [ممانعت] اور خرابی نہیں ہے۔
باقی رہا ’’درودِ تاج‘‘ اس کی جو کچھ خاصیتیں لکھی ہیں ان کا کچھ ثبوت شرعی نہیں ہے، اور اس میں بعض الفاظ ایسے کہ اس کو پڑھنا نہ چاہئے، اور احتیاط اس کے ترک کرنے میں ہے، اور جو شخص ان تاثیرات کا اعتقاد نہ رکھے اس پر کوئی جرم شرعی اور گناہ عائد نہیں ہوتا، اور باعتبار عربیت کے ’’ گنج العرش‘‘ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ ’’العرش‘‘ عربی لفظ ہے، اور اس پر الف لام ہے اور ’’گنج‘‘ فارسی کا لفظ ہے اور ’’گنج‘‘ کو مضاف کیا ہے، ’’العرش‘‘ کی طرف، پس فارسی لفظ کو عربی لفظ کی طرف مضاف کرنا موافق تراکیب عربی الفاظ کے صحیح نہیں ہے، البتہ کنز العرش لفظ صحیح ہے، فقط!
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ ’’نورنامہ‘‘ مروجہ کو چھاپنا، چھپوانا، بیچنا، پڑھنا اور سننا، ان باتوں سے گناہ ہوتا ہے یا ثواب؟ شرع شریف میں ان باتوں کے کرنے والے کے لئے کیا وعدہ یا وعید آئی ہے؟ {بینوا وتوجروا}!
جواب: ’’نور نامہ‘‘ مروجہ میں بے شک ایسی غلط اور موضوع روایات ہیں کہ ان کا شائع کرنا اور پڑھنا اور پڑھانا سخت گناہ اور معصیت ہے، حدیث صحیح میں ایسے لوگوں پر سخت وعید وارد ہوئی ہے: {عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بلغوا عني ولو آية، وحدثوا عن بني إسرائيل ولاحرج، ومن كذب عليّ متعمدا فليتبوأ مقعده من النار. رواه البخاري، وعن سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين. رواه مسلم}. (مشكوة) پس چھاپنا اور چھپوانا ایسی کتابوں کا جن میں موضوع اور بے اصل روایات ہوں ہرگز درست نہیں، بلکہ سخت گناہ اور موجبِ عذابِ الیم ہے، اور وعید ِدخولِ نار اس کے لئے حدیث شریف میں وارد ہے، فقط والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :موضوع اور بے اصل روایات والی کتب شائع کرنا، ۱۷/۱۹۱،مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دےدیا جائے، عوام کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے اس کا پڑھنا ممنوع ہے۔
رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ الوداع (الوداع الوداع یا شہر رمضان!) پڑھنا بدعت ہے۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’عہد نامہ‘‘ کے پڑھنے میں کچھ حرج نہیں، مگر اس کا ثواب جو لکھا ہے وہ غلط ہے۔