روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔
تفصیل
حدیث: ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، [حافظ سخاوی l فرماتے ہیں ] اس کا مضمون صحیح ہے (گو الفاظ ثابت نہیں ) [حضرت تھانوی l ، حافظ سخاوی l کے کلام کو مختصر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ] چنانچہ صحیحین میں حضور اقدس ﷺ کے ارشاد سے لعاب سے شفا حاصل کر نے کی دعا مذکور ہے ۔
ف: اسی سے ”سؤر المؤمن شفاء“، کا مضمون بھی ثابت ہو گیا، اوراہلِ طریق میں بزرگوں کی کھائی ہوئی چیز سے برکت حاصل کرنا، کثرت سے معتاد ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۸۹،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف : مؤمن کا لعاب شفاء ہے، ص : ۱۷۳، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملا
علی قاری ؒ نے ”المصنوع“ (رقم:۱۴۴) میں اس روایت کے مرفوع ہونے کی نفی کی ہے،
علامہ عجلونی ؒ نے ”كشف الخفاء“
(رقم:۱۳۲۰)میں حافظ سخاوی ؒ اور ملا علی قاری ؒ کے
کلام پر اکتفاء کیا ہے، نیز علامہ نجم الدین غزی ؒ نے
”اتقان ما يحسن“(رقم:۹۱۵) میں،علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے ”الجد الحثيث“(رقم:۲۰۳) میں اس کے
حدیث ہونے کی نفی کی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت : ”دنیا آخرت کی کھیتی کی جگہ ہے “، اس روایت کی آگاہی نہیں،
لیکن اس کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔