التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)

روایت: ’’آپ ﷺ کا خوش ہوکر حضرت عائشہR سے فرمانا: آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہR کا حضرت ابو بکر r سے مشورہ کرنے کے بعد یہ عرض کرنا: معراج کی رات قربتِ خاص میں جو باتیں آپ سے ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتا دیں۔۔۔‘‘۔

تفصیل

روایت:’’ایک دن آپﷺ نے حضرت عائشہR سے فرمایا: اے عائشہ! آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ جو مانگو گی ملے گا،حضرت عائشہR  نے فرمایا: حضور اگر اجازت ہو تو میں اپنے والد حضرت ابوبکر rسے مشورہ کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ مشورہ کرلو، حضرت عائشہR  اپنے والد کے پاس حاضر ہوئیں، اور ساری بات بتائی، پھر پوچھا کہ میں آپﷺ سے کیا مانگوں؟ حضرت ابوبکر صدیقr نے فرمایا: عائشہ!جاکے آپﷺ سے کہنا کہ معراج کی شب قربت خاص میں جو راز کی باتیں ہوئیں  ان میں سے کوئی ایک بتادیں، اور فرمایا کہ آپ ﷺ جو بتائیں وہ مجھے بھی بتانا، حضرت عائشہ R آپ ﷺ کے پاس واپس تشریف لائیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: عائشہ! مشورہ ہوگیا، کہا: جی ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ کیا مانگتی ہو؟

حضرت عائشہ R  نے کہا: معراج کی رات قربت  خاص میں جو باتیں ہوئیں  ان میں سے کوئی ایک بتادیں، آپ ﷺمسکرا دئے، اور فرمایا: عائشہ سنو! جب میں قرب خاص میں پہنچا تو میرے  رب نے مجھ سے جو باتیں کیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ میرے رب نے فرمایا: اے میرے محبوب!آپ کی امت میں سے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا ٹوٹا ہوا دل جوڑدےتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اسے بغیر کسی حساب کے جنت عطا کروں گا، حضرت عائشہ R بہت خوش ہوئیں، اپنے والد حضرت ابو بکر rکے پاس حاضر ہوئیں، آپ r نے فرمایا: عائشہ! آپ ﷺنے کیا فرمایا؟ حضرت عائشہ R نے ساری بات بتا دی،عائشہ R خوش تھیں جبکہ ابو بکر rنے جب یہ سنا تو زار وقطار رونا شروع کردیا، عائشہ R نے کہا: ابا جی! یہ بات رونے والی تو نہیں، بسا اوقات  ہم دکھی لوگوں کے کام آجاتے ہیں، ہمیں تو بخشش کا بہانہ مل گیا، حضرت ابو بکر r نے فرمایا: اس کا الٹ بھی تو دیکھو، اگر کوئی کسی کا ٹوٹا ہوا دل جوڑے تو بغیر حساب کے جنت میں جائے گا، اور اگر کوئی کسی کا دل توڑ دے تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ ہم سے کسی کا دل نہ ٹوٹ گیا ہو‘‘۔

حوالہ جات

[1] مجموع فتاوى:۴/۸۲ ،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة، الطبعة1425هـ .

ملتی جلتی احادیث