روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ كلوا الأرز، فإن فيه شفاء وبركة‘‘. چاول کھاؤ، اس لئے کہ اس میں شفاء اور برکت ہے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: زمین جن چیزوں کو اگاتی ہے، ان میں مرض اور شفاء (دونوں) ہیں، سوائے چاول کے، کیونکہ اس میں شفاء ہے، اس میں کوئی مرض نہیں ہے‘‘۔
روایت:’’چاول کھاتے وقت کثرت سے درود پڑھنا چاہئے، اس لئے کہ یہ ایسے جوہر سے ہے، جس میں ہمارے نبی ﷺ کا نور رکھا گیا ہے، جب یہ نور آپ ﷺ سے جدا ہوا تو پھٹ کر اور تقسیم ہوکر دانہ دانہ ہوگیا‘‘۔
روایت:’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نعم الدواء الأرز، صحيح سليم من كل داء‘‘. چاول کتنی اچھی دواء ہے، صحیح ہے، ہر مرض سے محفوظ ہے‘‘۔
روایت: حدیث میں ہے: ’’جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کا گھر خیر سے بھر جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کثرت سے آیت الکرسی پڑھے، اور جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے چالس درجہ بلند کریں گے، اور ہر حرف پر ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت کے دن تک اس کے پڑھنے والے کےلئے استغفار کرتا رہے گا‘‘۔
روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: میں ایک لطیف جوہر تھا، میں عرش کا طواف کر رہا تھا کہ اللہ تعالی کی مجھ پر نظر پڑگئی، سو مجھے حیاء آئی اور پسینہ آگیا، تو مجھ سے پسینہ کے سات قطرے ٹپکے، پھر پہلے قطرے سے اللہ تعالی نے ابو بکر r، دوسرے سے عمر r، تیسرے سے عثمان r، چوتھے سے علی r، پانچویں سے گلاب کا پھول، چھٹے سے چاول اور ساتویں قطرے سے کدو کو پیدا کیا‘‘۔