’’فرشتوں میں قراءت ِقرآن کی صفت نہیں ہے،اس لئے وہ قرآن سننے کے مشتاق ہوتے ہیں‘‘، اس مشہوربات کی کوئی اصل نہیں۔
تفصیل
’’سوال: یہ جو لکھا ہے کہ فرشتگاں آدمیوں سے، مشتاق سننے قرآن مجید کے، ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں یہ صفت نہیں ہے، حالانکہ جبریل e دور کرتے تھے، ساتھ رسول اللہ ﷺ کے؟
جواب: اس مشہور کی کوئی اصل نہیں، بلکہ اصل یہ ہے کہ قرآن کا، ملائک کو شوقِ استماع ہے کہ اس کی برکات سے وہ خوب واقف ہیں، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : فرشتوں کو قرآن پاک کے سننے کا شوق ؟ ص: ۵۲۰، دار الکتاب لاہور ۔
سائل کی ذکر کردہ حدیث جبریل e بخاری شریف میں ان الفاظ سے ہے: {إن جبریل کان یعارضني القرآن کل سنه}. اس کے تحت حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’فتح الباری‘‘ (۴۵/۹)میں تحریر فرماتے ہیں: ’’بظاہر دونوں آپﷺ اور جبریل e ایک دوسرے پر قرآن پڑھتے تھے‘‘، عبارت یہ ہے: {ويؤيده أيضا الرواية الماضية في بدء الخلق بلفظ: فيدارسه القرآن. فإن ظاهره أن كلا منهما كان يقرأ على الآخر وهي موافقة لقوله: يعارضه}. معلوم ہواکہ فرشتوں میں قراءتِ قرآن کی صفت موجود ہے۔
ملتی جلتی احادیث
’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
فاسدو بے اصل روایات کا کہنے سننے والا گنہگار ہے، ایسی محفل پر بلا شبہ حرمت کا حکم ہوگا اور اس میں شریک ہونا حرام ہے۔
’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔