روایت:اگر آدمی غیر محرم کو دیکھنے پر قادر ہو مگر اللہ رب العزت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے وہ غیر محرم سے نظریں ہٹالے تو ہر مرتبہ نظر بچانے کے صدقہ اللہ تعالی اس کو جنت میں ایک مرتبہ اپنے چہرے کا دیدار نصیب فرمائیں گے۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو عورت اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم محبت کی نظر سے دیکھے، اللہ رب العزت فیصلہ کرلیتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھوں گا، اور جو مرد اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم عورت محبت کی نظر سے دیکھے، اسے بھی اللہ تعالی قیامت کے دن محبت کی نظر سے نہیں دیکھےگا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے آدمe کو زمین پر اتارا تو اپنی بھول کے غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تھا،اب اللہ رب العزت نے ان کو مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں فرمایا، تو ان تین دنوں کے روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے چہرے کی سیاہی ان کے چہرے کے نور میں تبدیل ہوگئی‘‘۔
روایت: ’’شیطان مسلمان سے اس وقت تک ڈرتا رہتا ہے جب تک وہ نماز کا پابند اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا رہتا ہے، کیونکہ خوف کی وجہ سے اس کو زیادہ جرأت نہیں ہوتی، لیکن جب وہ نماز کو ضائع کر دیتا ہے تو اس کی جرأت بڑھ جاتی ہے، اور اس آدمی کے گمراہ کرنے کی اُمنگ پیدا ہوجاتی ہے، اور پھر بہت سے مہلکات اور بڑے بڑے گناہوں میں اس کو مبتلاء کر دیتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر سورۂ تبارک الذی پڑھے پھر چار مرتبہ کہے: ’’اللهم رب الحل والحرم والبلد الحرام، والركن، والمقام، والمشعر الحرام، بلغ روح محمد مني تحية وسلاما‘‘. اے حل، حرم، شہر حرام، رکن یمانی، مقام ابراہیم اور مشعر حرام کے پروردگار! میری طرف سے محمد ﷺ کی روح کو درود وسلام بھیج دیجئے، تو اللہ تعالی اس کے لئے دو فرشتے مقرر فرماتے ہیں، وہ دونوں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دونوں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں، اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، تو آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: میری طرف سے فلاں بن فلاں پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’يا أبا ذر! جدد السفينة، فإن البحر عميق، وخفف الحمل، فإن السفر بعيد، واحمل الزاد، فإن العقبة طويلة، وأخلص العمل، فإن الناقد بصير‘‘. اے ابو ذر! کشتی بنا سنوار لو، کیونکہ سمند بہت گہرا ہے، اوربوجھ ہلکا رکھو، کیونکہ سفر بہت دور ہے، اور توشہ لو، کیونکہ گھاٹی لمبی ہے، اور عمل کو خالص رکھو، کیونکہ پرکھنے والا خوب نظر رکھنے والا ہے‘‘۔