’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
حکم:شدید منکر،شدید ضعیف ہے،بیان نہیں کر سکتے،یہ حکم مشہور روایت: ’’أنا مدینة العلم وعلی بابها‘‘ ( میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے)کے علاوہ ذکر کردہ اضافی کلمات کا ہے۔
تفصیل
وضاحت :واضح رہے کہ مذکورہ روایت کتبِ سنن میں اس طرح ہے: ’’میں علم کا شہر ہو ں اور علی r اس کا دروازہ ہے،جوحصول علم کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ دروازے سے آئے‘‘، بعض کتب میں ان الفاظ کے ساتھ ساتھ درج ذیل الفاظ کا اضافہ بھی ہے: ’’میں علم کا شہر ہو ں، ابوبکرr اس کی بنیاد ہے،عمر r اس کی دیوار ،عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔ زیر بحث روایت میں اضافی الفاظ سے بحث کی جا ئے گی ،پہلی قسم کے الفاظ (میں علم کا شہر ہو ں اور علی r اس کا دروازہ ہیں جوحصول علم کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ دروازے سے آئے)سے بالکل تعارض نہیں کیا جا ئے گا ۔
وضاحت : ’’مسند فردوس‘‘ میں راوی کا نام ’’عبداللہ بن سعید‘‘ لکھا ہے ،یہ بظاہر تصحیف ہے ،صحیح ’’عبداللہ بن مسعودr‘‘ ہے۔
روایت پر ائمہ کاکلام
روایت پر ائمہ کاکلام
حوالہ جات
[1] تاريخ دمشق:۴۵/۳۲۱،رقم:۹۸۹۸،ت:عمربن غرامة،دارالفکرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[2] اللآلئ المصنوعة:۱/۳۰۸،ت:محمد عبدالمنعم،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۲۸هـ .
[3] تاريخ دمشق:۹/۲۰،رقم:۲۲۷۸،ت:عمر بن غرامة،دارالفکرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[4] تاريخ الإسلام:۳۰/۱۷۲،رقم:۲۴۹،ت:عمر عبد السلام تدمري،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[5] تاريخ دمشق:۹/۲۰،ت:عمر بن غرامة،دارالفکرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[6] البدرالمنير:۷/ ۵۷۶،ت:مصطفى أبوالغيط،دارالهجرةـ الرياض،الطبعة۱۴۲۵هـ .
[7] ميزان الاعتدال:۱/۲۳۹،رقم:۹۲۰،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .
[8] تاريخ الإسلام:۲۹/۵۰۰،رقم:۳۱۹،ت:عمر عبدالسلام تدمري،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[9] الأنساب:۱/۴۸۰،ت:عبدالله عمر البارودی،دارالجنان ـ بیروت،الطبعةالأولى۱۴۰۸هـ .
[10] الأنساب:۱/۴۸۰،ت:عبدالله عمر البارودی،دارالجنان ـ بیروت،الطبعةالاولى۱۴۰۸هـ .
[11] لسان الميزان:۲/۱۵۱،رقم:۱۲۰۶،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائراسلامیةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[12] تنزيه الشريعة المرفوعة:۱/ ۳۹،رقم :۲۹۸،ت:عبد الله بن محمد الغماري،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة۱۴۰۱هـ .
[13] الفردوس بمأثورالخطاب:۱/۴۳،رقم:۱۰۵،ت:السعيد بن بسيوني زغلول،دارالكتب العلميةـ بيروت، الطبعة ۱۴۰۶هـ .
[14] المقاصد الحسنة:۱۷۰،ت:محمدعثمان الخشت،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[15] الفتاوى الحديثية:ص:۳۵۵،میرمحمدکتب خانةـ کراتشی .
[16] إتقان مایحسن:۱/ ۱۲۶،رقم:۳۱۲،ت: خلیل بن محمد،الفارق الحدیثةـ القاهر، الطبعة۱۴۱۵هـ .
[17] أسنى المطالب:ص:۹۲،رقم:۳۹۰،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۸هـ .
[18] الفردوس بمأثورالخطاب:۱/۴۴،رقم:۱۰۶،ت:السعيد بن بسيوني زغلول،دارالكتب العلميةـ بيروت الطبعة ۱۴۰۶هـ .
[19] یہاں ایک اہم وضاحت مطلوب ہے کہ مسند فردوس کی سند ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، البتہ اس روایت کے متن: ’’أنا مدينة العلم وعلي بابها وحلقتها معاوية‘‘ کی ایک سند شیخ ناصرالدین البانیl نے محمدبن حمزہ الفقیہ کے حوالے سے بطریق انس بن مالک r نقل فرمائی ہے ،ملاحظہ ہو: ’’ عن محمد بن جعفر الشاشي، أخبرنا أبو صالح أحمد بن مزيد، أخبرنا منصور بن سليمان اليمامي،أخبرنا إبراهيم بن سابق، أخبرنا عاصم بن علي، حدثني أبي عن حميد الطويل عنه مرفوعا به دون قوله : ’’فمن أراد.... وزاد: وحلقتها معاوية ‘‘ . (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة:۶/ ۵۲۸،رقم:۲۹۵۵) .
روایت کے متن پر کلام مسند فردوس کی روایت کے ضمن میں آچکا ،اورمحمدبن حمزہ کی سند پر ائمہ کاکلام نہیں مل سکا ،چنانچہ ائمہ رجال کے اقوال کی روشنی میں سند کے راویوں کے حالات کا جائزہ لیا جائےگا تاکہ روایت کا حکم معلوم ہوسکے۔
سند کےروایوں کے حالات کے بارے میں ہمیں ’’عاصم بن علی‘‘ اور ان کے والد ’’علی بن عاصم بن صہیب‘‘ کے علاوہ کسی کا ترجمہ نہیں مل سکا ،البتہ ’’ابراہیم بن سابق‘‘ سے متعلق اتنی بات معلو م ہوئی ہے کہ اس طبقہ میں ابراہیم بن سابق نامی کتب رجال میں حافظ ابن حبان l نے ’’الثقات‘‘ میں ابراہیم بن سابق مکی مولی خزاعہ کا نام ذکرکیا ہے ،لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہ ہی ہیں جن کا نام سند میں ہے ۔
عاصم بن علی
یہ ثقہ ہیں ،حافظ ذہبی l ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں ان کا ترجمہ اس طرح شروع فرماتے ہیں : ’’حافظا، صدوقا، من أصحاب شعبة‘‘ (۹/ ۲۶۲،رقم:۷۳).
علی بن عاصم بن صہیب واسطی
عاصم بن علی کے والد ہیں ،ان کے بارے میں جرح وتعدیل دونوں طرح کے اقوال ہیں ،ان سے جامع ترمذی ،سنن ابوداؤد ،سنن ابن ماجہ میں روایات منقول ہیں ۔
روایت محمدبن حمزہ الفقیہ(بطریق انس بن مالکr )کا حکم
آپ حضرات جان چکے ہیں کہ روایت: ’’میں علم کا شہر ہوں،علیr اس کا دروازہ ہے اور معاویہr اس کا حلقہ ہے‘‘ ۔کو حافظ سخاویl نے دیگر احادیث کے ساتھ خاص اس روایت کے الفاظ کوبھی ’’رکیک الفاظ‘‘ قرار دے کراس كے ضعفِ شدید کی جانب اشارہ فرمایا ہے ،نیز سند محمدبن حمزہ میں تین مجہول راوی ہیں،چنانچہ اس خاص تناظر میں کہ حافظ سخاوی l روایت کے ضعف شدید ہونے کی جا نب اشارہ فرما چکے ہیں ، اورعلامہ نجم الدین غزی l نے اسے ’’واہی ضعیف‘‘ کہاہے،ایک ایسی سند جوتین مجاہیل پرمشتمل ہے، اسے ضعف شدید سے نکالنے میں قاصر ہے،لہذا اس روایت کو بھی آپﷺ کے انتساب سے بیان کر نا درست نہیں ہے۔
[20] المقاصدالحسنة:۱۷۰،ت:محمدعثمان الخشت،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[21] إتقان مایحسن:۱/۱۲۶،رقم:۳۱۲،ت:خلیل بن محمد،الفارق الحدیثة ـ القاهر،الطبعة۱۴۱۵هـ .
ملتی جلتی احادیث
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
حضرت عثمان بن عفانr کانبی اکرمﷺ کو دعوت دینااور آپﷺ کے قدموں کو شمار کرنا
روایت: ’’جوچیز بھی اللہ نےمیرے دل میں ڈالی ،وہ ابو بکر r کے دل میں بھی ڈال دی ہے‘‘۔
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔