روایت: ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں‘‘، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل÷. من خرجه؟ [میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں، اس کی تخریج کس نے کی ہے؟]
جواب: ×علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل. هذا حديث لا يثبت، وقد كنت أجبت بذالك، فقال بعض الطَلَبَة: أنه في البخاري، فأجبت بأنه ليس في الصحاح الستة، ولا يصح لفظه عن حضرة النبوة على صاحبها الصلوة والسلام .
ثم رأيت السخاوي قال في المقاصد: قال شيخنا ومن قبله الدَمِيْرِي والزركشي أنه لا أصل له، زاد بعضهم: ولا يعرف في كتاب معتبر[انتهى كلام السخاوي] .
قال السخاوي[أي: في مقام آخر في المقاصد]: وقد ورد: كاد حَمَلَة القرآن أن يكونوا أنبياء إلا أنهم لا يوحى إليهم. أخرجه الديلمي وقال: إنه غريب جدا من رواية الأكابر عن الأصاغر. قال السخاوي [أي بعده]: وفيه من لا يعرف وأحسبه غير صحيح [انتهى كلام السخاوي] .
قلت[أي: الشيخ الجونفوري]: وعزاه المُنَاوِي في فيض القدير (ص:۹۱/۲) للدَارَقُطْنِي أيضا، وقال: فيه خلف الضرير. أورده الذهبي في الضعفاء، وقال: قال ابن الجوزي: روی حديثا منكرا. كأنه يشير إلى هذا، انتهى .
قلت[أي: الشيخ الجونفوري]: هذا الحديث كما ترى لا يثبت، ومع ذلك ليس بواضح في معنى الحديث المذكورفي السؤال، ولعل حديث: العلماء ورثة الأنبياء. عند أحمد وأبي داود والترمذي وغيرهم أقرب، وصححه ابن حِبَّان والحاكم وحسنه حمزة الكَتَّاني، وضعفه غيرهم بالاضطراب في سنده، لكن له شواهد يتقوى بها، ولذا قال الحافظ ابن حجر: له طريق يعرف بها أن للحديث أصلا [انتهى كلام ابن حجر]. ومع ذالك فأصل حديث السؤال لا يثبت، والله أعلم .
ثم رأيت حديث السؤال ذكره المُنَاوِي(ص :۱۵/۱) في فيض القدير حاكيا عن ابن عطاء الله الإسكندري، وتكلم المحشي على الحديث بما مفاده أن هذا الحديث لا يثبت .
وفي شرح المواهب للزَرْقَانِي(ص :۱۵۸ /۶): سئل عنه الحافظ العراقي فقال: لا أصل له، ولا إسناد بهذا اللفظ، ويغني عنه: العلماء ورثة الأنبياء. وهو حديث صحيح[انتهى كلام العراقي] ÷[1] ‘‘.
[میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں،یہ حدیث ثابت نہیں ہے، میں نے جب اس سوال کا یہ جواب دیا تو ایک طالب علم نے کہا کہ یہ حدیث ’’بخاری‘‘ میں ہے، میں نے جواباً کہا کہ یہ’’صحاح ستہ‘‘ میں کہیں نہیں ہے،اور نہ ہی حضرت نبوۃ علی صاحبہا الصلوۃ ولسلام سے یہ الفاظ صحیح ہیں۔
پھر میں نے سخاوی l کو دیکھا، آپ ’’المقاصد‘‘ میں فرماتے ہیں: ہمارے شیخ (یعنی حافظ ابن حجر عسقلانیl) اور ان سے قبل دَمِیْرِی اور زرکشی l نے اسے بے اصل کہا ہے، بعض نے یہ اضافہ کیا ہے کہ یہ کسی معتبر کتاب میں نہیں ہے(سخاوی l کا کلام مکمل ہوا)۔
سخاوی l (ایک دوسرے مقام پر ) فرماتے ہیں: اور یہ وارد ہے کہ قریب ہے کہ حاملینِ قرآن انبیاء ہوتے، مگر یہ کہ ان کی جانب وحی نہیں بھیجی جاتی۔ اسے دیلمی l نے تخریج کیا ہے، اور اسے غریب جداً من روایۃ الاکابر عن الاصاغر کہا ہے۔ سخاوی l فرماتے ہیں: اس میں غیر معروف راوی ہے، اور میرے خیال سے روایت صحیح نہیں ہے(سخاوی l کا کلام مکمل ہوا)۔
میں(حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ مُنَاوِی l نے
’’فیض القدیر‘‘ میں دَارَقُطنِی l کے حوالہ سے کہا ہے، آپ فرماتے ہیں: اس میں (راوی)خلف ضریر ہے۔ اس خلف ضریر کو ذہبی l نے ’’ضعفاء ‘‘ میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ابن
جوزی l فرماتے ہیں: اس نے ایک منکر حدیث نقل کی ہے۔ گویا کہ ابن
جوزی l اس حدیث کی جانب اشارہ فرمارہے ہیں، انتہیٰ ۔
میں(حضرت جونپوری l) کہتا ہوں :جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ حدیث بھی ثابت نہیں ہے،اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ اس روایت کا سوال میں مذکور حدیث کے معنی میں ہونا بھی واضح نہیں ہے،اور شاید کہ حدیث :علماء انبیاء کے وارث ہیں ـ جسے احمد l، ابوداؤد l، ترمذی l وغیرہ نے تخریج کیا ہے - سوال میں مذکور حدیث سے زیادہ قریب ہے، اور اسے ابن حبان l وحاکم l نے صحیح اور حمزہ کَتَّانی l نے حسن کہا ہے، ان کے علاوہ دوسرے محدثین نے اضطراب سند کی وجہ سے اسے ضعیف کہا ہے، لیکن شواہد سے مل کر یہ روایت قوی ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: اس حدیث کے کئی طرق ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی اصل موجود ہے(حافظ ابن حجر l کا کلام مکمل ہوا)۔ مع ہذا سوال میں پوچھی جانے والی حدیث کی اصل ثابت نہیں ہے، واللہ اعلم۔
پھر میں نے دیکھا کہ مُنَاوِی l نے ’’فیض القدیر‘‘ میں سوال میں پوچھی گئی حدیث، ابن عطاء اللہ اسکندری سے نقل کی ہے، اور محشی نے اس پر کلام کیا ہے، جس کا حاصل یہی ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
اور زَرْقَانی l کی ’’شرح المواہب‘‘ میں ہے کہ اس حدیث کے بارے میں عراقی l سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا : یہ بے اصل ہے، ان لفظوں سے اس کی کوئی سند نہیں ہے، اور حدیث: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ اس سے بے نیاز کرنے والی ہے، جو کہ صحیح حدیث ہے]
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیۃ : علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل، من خرجہ ؟ ۲/۵۳۴،۵۳۳۔
امام سیوطیl نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ (رقم:۲۹۳) میں اور علامہ محمدبن محمد درویش الحوت l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۸۸۹) میں اس روایت کو بے اصل، من گھڑت کہا ہے، روایتِ ہذا کی مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے : غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول : ص:۲۱۷ ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں‘‘،یہ من گھڑت ہے۔
اذان کے بعددعائے وسیلہ میں لفظ ×الدرجة الرفيعة÷ مجموعی طور پر ثابت نہیں ہے،اسی طرح ×وارزقنا شفاعته يوم القيامة÷ کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملے، ہاں اس کے ہم معنی الفاظ وارد ہیں۔
’’تختم بالعقیق‘‘(عقیق کی انگوٹھی پہننے)کے بارےمیں منقول روایات سب واہی ہیں،اورمحققین ناقدین ان روایات کوبے اصل اورموضوع کہتےہیں۔
[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]