روایت: ’’طعام الميت يميت القلب‘‘. میت کا کھانا دل کو مردہ کرتا ہے۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن جب اس امت کے اعمال کا وزن کیا جائےگا تو ان کی نماز کی ایک رکعت دوسری امتوں کی نماز کی ہزار رکعات سے بڑھ جائے گی، سو لوگ اس پر تعجب کریں گے، پھر ان سے کہا جائےگا: یہ لوگ اپنی نماز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھتے تھے‘‘۔
روایت: جس دستر خوان پر سبزی ہو اس پر رحمت نازل ہوتی ہے۔
روایت: ’’ إن الملائكة تحضر المائدة، إذا كان عليها بقل‘‘. بلا شبہ فرشتے دستر خوان پر آتے ہیں، جبکہ اس پر کوئی سبزی موجود ہو۔
روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔