التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔

تفصیل

سوال: ایک شخص کا یہ معمول ہے کہ ماہِ رمضان کی تیئیسویں کو، بعد نمازِ تراویح، سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم کو پڑھ کر پانی پر دم کر کے  خود بھی پیتا ہے اور سب کو پلاتا بھی ہے، اور اس کا مستدل ایک حدیث ہے، جس کو  ’’انیس الواعظین‘‘ میں بایں طور بیان فرمایا ہے:  {رسول گفت عليه السلام: من قرء [کذا في الأصل] سورة العنکبوت وسورة الروم فی لیلة الثلاثة والعشرین من رمضان فهو من أهل الجنة}. [رسول e کا ارشادہے: جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا]شیخ المشائخ رکن الدین والحق ابو الفتح فیض اللہ قدس سرّہ ملک بہرام سراج الدین فرمود اگر خواہی دربہشت بیشک درآئی دو سورۂ مذکور درشب بست وسوم ماہ رمضان بخوان، پس ارشاد ہو کہ آیا شخص مذکورہ کا یہ فعل صحیح اور جائز ودرست  ہے یا نہیں ؟

جواب: فضائلِ سورِ قرآن میں جس قدر احادیث ہیں بجز چند احادیث کے سب موضوع ہیں، احادیثِ صحیحہ میں سورۂ فاتحہ، سورۂ ملک، سورۂ کہف، سورۂ  اخلاص، سورۂ  کافرون  والمعوذتین، وسورۂ الٓم سجدہ، وسورۂ دخان، وسورۂ الفتح، وسورۂ یسٓں کی فضیلت تو آئی ہے مگر وہ بھی محض تلاوت کی فضیلت ہے، کوئی مہینے یا دن یا تاریخ  کی قید نہیں، اور سورۂ الروم اور سورۂ  العنکبوت کی جو فضیلت قیود مذکورہ کے ساتھ ’’انیس الواعظین‘‘ سے نقل کی گئی ہے احادیثِ صحیحہ میں نظر سے نہیں گذری، اغلب یہ ہے کہ موضوع ہے۔

پس جب تک حدیث کا صحیح ہونا معلوم نہ ہوجائے اس وقت تک اس فضیلت کا اعتقاد جائز نہیں، نہ اس پر عمل کرنا جائز، اور ’’انیس الواعظین‘‘  کی روایات معتبر نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم! {وقد صرح أئمة الحدیث بأن الحدیث الذي فيه فضائل السور موضوع، ذکره السیوطي في اللآلئ المصنوعة فقط}[1]. [ائمہ حدیث نے وضاحت کی ہے کہ وہ حدیث جس میں مختلف سورتوں کے فضائل ہیں وہ موضوع ہے، اسے سیوطی l نے ’’اللآلیٔ المصنوعہ‘‘  میں ذکر کیاہے]۔

حوالہ جات

[1]  امدادالاحکام: انیس الواعظین کی ایک روایت متعلق فضائل سورۂ عنکبوت، ۱/۲۴۶، مکتبہ دار العلوم کراچی۔ 

ملتی جلتی احادیث