’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔
تفصیل
’’سوال: سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو امید مغفرت کی ہے، یہ روایت کون سی کتاب میں ہے، {لااله إلا الله} پڑھنا چاہئے یا {محمد رسول الله} بھی ملایا جاوے؟
جواب: یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری، بعض مشائخ نے اس کو نقل فرمایا ہے، لہٰذا عمل اس پر درست ہے، اور معمول {لا إله إلا الله محمد رسول الله(صلى الله عليه وسلم)} پڑھنے کا نہیں، بلکہ صرف {لا إله إلا الله} کا اور کبھی کبھی {محمد رسول الله(صلى الله عليه وسلم)} ملانے کا ہے، اور حدیث ’’ترمذی‘‘ و’’ابن ماجہ‘‘ میں ہے: {أفضل الذكر لا إله إلا الله} الحدیث، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :سوا لاکھ کلمہ پڑھ کر اایصال ثواب کی روایت کہاں ہے، ۵/۳۸۲ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ نجم الدین غیطی l نے ’’الابتهاج بالکلام علی الاسراء والمعراج‘‘ (مخطوط:ص:۵) میں حافظ ابن حجر عسقلانی l کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ وہ اس روایت کو باطل،من گھڑت قرار دیتے تھے، نیز حافظ نجم الدین غیطی l یہ بھی لکھتے ہیں کہ اکابر صوفیاء کی اقتداءاور ان کے افعال کے تبرک حاصل کرنے کے لئےاس عمل کوکر لینا چاہئے،حافظ نجم الدین غیطی l کی عبارت ملاحظہ ہو:
{ويشبهها ما يتداوله السادة الصوفية من قول لا إله إلا الله سبعين ألف مرة، و يذكرون أن الله تعالى يعتق بها رقبة من قالها، واشترى بها نفسه من النار، و يحافظون على فعلها لأنفسهم و لمن مات من أهالهم و إخوانهم، وقد ذكرها الإمام اليافعي [كذا في الأصل، وفي خلاصة الأثر: الرافعي] والعارف بالله الكبير المحيوي [كذا في الأصل] بن عربي، و أوصى بالمحافظة عليها، و ذكروا أنه قد ورد فيها خبر نبوي، وحكوا أن شابا صالحا كان من أهل الكشف ماتت أمه، فصاح و بكا وخر مغشيا عليه، ثم سئل عن سبب ذلك؟ فذكر أنه رأى أمه في النار، وكان بعض المشايخ من السادة حاضرا، وكان قد قال هذه السبعين ألفا، وأراد أن يعدها لنفسه، فقال في نفسه عندما سمع قول الشاب المذكور: اللهم إنك تعلم أني هللت هذه السبعين ألف تهليلة و أريد أدخرها لنفسي، و أشهدك أني قد اشتريت بها أم هذا الشاب من النار، فما استتم هذا الورد إلا وتبسم الشاب، وسر، و قال: الحمد لله، أرى أمي قد خرجت من النار، و أمر لها إلى الجنة، قال الشيخ المذكور: فحصل لي فائدان: صدق الخبر المذكور و صحته و كشف هذا الشاب ، انتهى لك الحديث المذكور.
قال بعض المشايخ: لم ترد به السنة فيما أعلم، و قد وقفت على صورة سؤال للحافظ ابن حجر رحمة الله عليه عن هذا الحديث، و هو: من قال لا إله إلا الله سبعين ألفا اشترى نفسه من الله تعالى، هل هو حديث صحيح أو حسن أو ضعيف؟ و صورة جوابه: أما الحديث يعني المذكور فليس بصحيح ولا حسن ولا ضعيف، بل هو باطل موضوع، لاتحل روايته إلا مقرونا ببيان حاله انتهى، لكن ينبغي للشخص أن يفعلها إقتداء بالسادة الصوفية و امتثالا لقول من أوصى بها وتبركا بأفعالهم، وقد ذكرها الشيخ الزاهد الولي العارف بالله سيدي محمد بن عراق نفعنا الله ببركاته في بعض سفيناته [كذا في الأصل] المؤلفة، وقال: كان شيخه يأمره بها، و ذكر أن بعض إخوانه ذكر له بعض الصلحا أنه كانت له سبحة عدها ألفا [كذا في الأصل]، و كان يريدها سبعين مرة من بعد صلاة الصبح إلى طلوع الشمس [كذا في الأصل]، وقال: وهذه كرامة له من الله تعالى، فنسأل الله تعالى أن يمن علينا بذلك وأن يلحقنا بعباده الصالحين انتهى}.
یہی تمام تفصیل علامہ محمد امین بن فضل اللہ محبی l نے ’’خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن‘‘ (۱/۷۳ )میں نقل کی ہے،اور آخرمیں حافظ نجم الدین غیطیl کاقول نقل کیا ہے۔
حافظ ابن تیمیہ l ’’مجموع الفتاوی‘‘ (۲۴/۱۸۰)میں فرماتے ہیں یہ روایت کسی صحیح یا ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہے،یعنی اس کی کوئی ادنی سند بھی نہیں ہے،تاہم اگر کوئی شخص لا الہ الا اللہ ستر ہزار یا کم وبیش مقدار میں پڑھ کر میت کو ایصال ثواب کرے گا تو اللہ اس کا نفع اسے پہنچا دیں گے،عبارت ملاحظہ ہو:
{وسئل عمن هلل سبعين ألف مرة وأهداه للميت يكون براءة للميت من النار. حديث صحيح أم لا؟ وإذا هلل الإنسان وأهداه إلى الميت يصل إليه ثوابه أم لا؟ فأجاب: إذا هلل الإنسان هكذا سبعون ألفا أو أقل أو أكثر وأهديت إليه نفعه الله بذلك، وليس هذا حديثا صحيحا ولا ضعيفا، والله أعلم}.
ملتی جلتی احادیث
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔