روایت:’’نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے سب سے پہلے رمضان المبارک کی اطلاع دی اس کو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’حضرت عائشہR فرماتی ہیں کہ میں ایک دن گوشت بھون کر بیٹھی، میں نے کہا: آپ ﷺ کےلئے بھنا ہوا گوشت ہے، آپ ﷺ نے پانی کا ایک بڑا پیالہ اس میں اور ڈال دیا، میں نے کہا :یا رسول اللہﷺ!میں نے بڑے مزے کا گوشت بنایا تھا، فرمایا: عائشہ !اکیلا نہیں کھاؤں گا، چالیس گھروں تک جو بیوہ ہیں میں محمد ان کے پاس بھی یہ اللہ کی نعمت اور نبی کا تحفہ پہنچاؤں گا، پھر گوشت کے قریب بیٹھ گئے، فرمانے لگے: فلاں بوڑھی کو بلاؤ، فلاں بیوہ کو بلاؤ، فلاں اندھی کو بلاؤ، فلاں لنگڑی کو بلاؤ، عائشہR فرماتی ہیں کہ کچھ نہ بچا، سارا پیغمبرﷺ نے بیٹھ کر تقسیم کردیا‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت:’’روي في الأخبار: وهو أن الله تعالى إذا أنزل الرحمة على الجماعة ينزلها أولا على الإمام، ثم يتجاوز عنه إلى من بحذائه في الصف الأول، ثم إلى الميامن، ثم إلى المياسر، ثم إلى الصف الثاني‘‘. اخبار میں مروی ہے: اللہ تعالی جب جماعت پر رحمت نازل فرماتے ہیں تو سب سے پہلے امام پر نازل فرماتے ہیں، پھر رحمت امام سے آگے بڑھ کر اس شخص کی جانب بڑھتی ہے جو پہلی صف میں امام کے مقابل ہو، پھر دائیں جانب، پھر بائیں جانب، پھر دوسری صف کی جانب بڑھتی ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الآباء ثلاثة: أب ولدك، وأب علمك، وأب رباك‘‘.باپ تین ہیں: (ایک) وہ باپ ہے جس سے تمہاری ولادت ہوئی، (دوسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا، (تیسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہاری تربیت کی ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ بھی ہے: ’’وأب زوجك‘‘. اور وہ باپ جس نے اپنی بیٹی تمہیں نکاح میں دی‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’خير الآباء من علمك‘‘. تمہارا بہترین والد وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا‘‘۔