روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’رحم الله رجلا قال: يا أهلاه! صلاتكم، صيامكم، زكاتكم، مسكينكم، يتيمكم، جيرانكم، لعل الله يجمعهم معه في الجنة‘‘. اللہ اس شخص پر رحم فرمائےجو کہے: اے گھر والو! اپنی نماز، اپنی زکوۃ، اپنے مسکین، اپنے یتیم، اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرو، شاید اللہ تعالی اس کے ساتھ ان کو جنت میں اکٹھا کردے‘‘۔
حکم: اس روایت کو حافظ زیلعی l نے ’’غریب‘‘ کہا ہے، اور حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ حدیث نہیں ملی‘‘، الحاصل اسےرسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل:6/16۰،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،مكتبة العبيكان ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[2] المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز:5/333،ت:عبد السلام عبد الشافي محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[3] السراج المنير في الأعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير:4/331،مطبعة بولاق ـ مصر .
[4] روح البيان:10/58،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[5] روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني:14/351،ت:علي عبد الباري عطية،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[6] تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في تفسير الكشاف:۴/۶۶،رقم:۱۳۸۴،ت:سلطان بن فهد،دار ابن خزيمة ـ الرياض،الطبعة الأولى 1414هـ .
[7]الكافي الشاف في تخريج أحاديث الكشاف:ص:300،رقم:1212،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[8] المستدرك على الصحيحين:1/461،رقم:1189،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔