’’حضرت معاویہ r نے حضرت امام حسین r سے اقرار نامہ لکھا تھا کہ تا زندگی یزید کو ولی عہد نہ کروں گا‘‘، یہ بات واہی ہے۔
تفصیل
’’سوال: جب کہ حضرت معاویہ r نے حضرت امام حسین r سے اقرار نامہ لکھا تھا کہ تا زندگی یزید پلید کو ولی عہد نہ کروں گا، پھر حضرت معاویہ r اپنے قول سے کیوں پھر گئے اور یزید پلید کو کیوںولی عہد کیا، صحابی سے اقرار توڑنا بعید معلوم ہوتا ہے، قمارباز اور شراب خور یزید پہلے ہی سے تھا ولی عہدی کے وقت نہ تھا، مفصل صحیح کس طور پر ہے؟
جواب: حضرت معاویہ r نے کوئی وعدہ عہد یزید کو خلیفہ کرنے کا نہیں کیا، یہ واہیات وقائع [خبریں] ہیں فقط، یزید اول صالح تھا بعد خلافت کے خراب ہوا تھا‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ :حضرت معاویہ r کا، وعدہ حسین r سے ص: ۲۴۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’شِمْر قاتل امام حسین r بڑا حافظ قرآن تھا۔۔۔‘‘، یہ ڈھکو سلا جہال واعظین کا ہے۔
’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔