روایت: حضرت شیماء R کا بکریاں چرانے کےلئے والدہ کو اپنے رضاعی بھائی محمد ﷺ کو اپنے ساتھ بھیجنے کا کہنا، اور وجہ یہ بتانا کہ بکریاں جلدی سے چر کر بھائی کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہیں، اور ان کا چہرہ دیکھتی رہتی ہیں۔
تفصیل
’’ایک دن ماں نے کہا: شیماء! بہت دیر ہوگئی ہے تم ابھی بکریاں چرانے نہیں گئی؟ اس نے کہا: امی میں اکیلی ہوں اور بکریاں زیادہ ہیں، یہ مجھ سے نہیں سنبھل سکتیں، میرے ساتھ کسی اور کو بھیج دو، میں گرمی کے موسم میں سارا دن بھاگ کر تھک جاتی ہوں، حلیمہ سعدیہ نے کہا: بیٹی گھر میں اور تو کوئی نہیں ہے جسے آپ کے ساتھ بھیجوں، اس لئے آپ کو اکیلے ہی جانا پڑے گا، اس نے کہا: امی مجھ سے یہ کام نہیں ہوسکتا، میں اکیلی بکریوں کو نہیں سنبھال سکتی، جب ماں نے مجبور کیا تو شیماء R کہنے لگی: میں ایک شرط پر بکریاں چرانے کےلئے جاتی ہوں، ماں نے کہا بیٹی کیا شرط ہے؟ شیماء R نے کہا: جی آپ میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی محمد ﷺ کو بھیج دیں تو میں بکریوں کے ساتھ چلی جاؤں گی، ماں نے کہا: بیٹی! ایک بکریوں کو چرانا اور دوسرا بچے کو سنبھالنا یہ دونوں کام ایک ساتھ کیسے کر پاؤ گی؟ اس نے کہا: امی! اگر اکیلی جاؤں گی تو بکریاں نہیں سنبھال سکوں گی، اور اگر ساتھ بھائی کو لے کر جاؤں گی تو بکریاں سنبھال لوں گی پھر حلیمہ سعدیہ نے پوچھا: شیماء R ذرا کھل کر بتاؤ کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ شیماء R نے کہا: امی! ایک دن میں اپنے بھائی کو ساتھ لے کر چلی گئی تھی تو میں نے دیکھا کہ بکریوں نے تھوڑی دیر میں جلدی جلدی گھاس چر کر کھالی، اور جس جگہ میں اپنے بھائی محمد ﷺ کو گود میں لے کر بیٹھی تھی، بکریاں بھی وہیں آکر بیٹھ گئیں، اور تمام بکریاں بھائی کا چہرہ دیکھنے لگیں‘‘۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے آدمe کو زمین پر اتارا تو اپنی بھول کے غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تھا،اب اللہ رب العزت نے ان کو مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں فرمایا، تو ان تین دنوں کے روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے چہرے کی سیاہی ان کے چہرے کے نور میں تبدیل ہوگئی‘‘۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔