التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)

حضرت بلال r کا چکی چلانا،آپﷺ کا چکی چلانےمیں تین دن تک ان کی مدد کرنا، اور بالآخر ان کا مسلمان ہونا

تفصیل

حضرت بلال r سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم ﷺ کو کیسے دیکھا؟

بلال r فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا، کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، ان کی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک ﷺیا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔

ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا، سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا، ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا، اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔

اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا، کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہایت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟

جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں، لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔

قصہ مختصر کہ بلال r نے حضور ﷺکو کافی سخت جملے کہے،حضور ﷺ یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال r نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔

حضورﷺ یہ سن کر بھی چلتے رہے، بلال r کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی، لیکن بلال r کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔

بلال r کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا،اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں، اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔

میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِسے تو مالک صبح بہت مارے گا، اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔

بلالr سو گئے اور حضور ﷺنے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔

صبح بلال r کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے، دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال r کو دی اور ساری رات چکی پیسی، ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال r ٹھیک نہ ہو گئے،بالآخر آپ ﷺکے اِن کریمانہ اخلاق سے متاثر ہوکر بلال r مسلمان ہوگئے۔