’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔
تفصیل
’’سوال: جمعہ یا جمعرات یا پیر کے روز یا رمضان المبارک میں جو شخص مرجاتا ہے، تو اس کو کچھ تخفیف عذاب میں یا حساب میں ہوتی ہےیا نہیں؟ اور اگر ہوتی ہے تو کیا ہوتی ہے ؟
جواب: جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذابِ قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں، فقط، واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : جمعہ کی شب میں جمعہ کو اور رمضان المبارک میں، مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، ص: ۵۴۰، دار الکتاب لاہور ۔
حافظ ابن بطال l ’’شرح بخاری‘‘ ( ۳/۳۷۶)میں باب ’’موت یوم الاثنین‘‘ کے تحت مسند حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ابو بکر r نے آپﷺ کے انتقال کے دن (یعنی پیر)کے بارے میں عائشہ R سے اس لئے دریافت کیا تھا کہ انھیں یہ خواہش تھی اس دن میں انتقال ہونے پر آپ ﷺ کے انتقال کے دن سے موافقت ہو کر برکت کا موجب ہوگی‘‘، کچھ آگے جاکر پیر کے دن کی فضیلت میں بروز پیر آپﷺ کی ولادت،نزول وحی،دخولِ مکہ، آپ ﷺ کا انتقال،نیز بروز پیرو جمعرات آپﷺ کا روزہ رکھنا، ان دو دنوں میں اعمال کی پیشی کو ذکر کیا ہے، لیکن یہ فضیلت نقل نہیں کی کہ بروز پیر عذابِ قبر نہیں ہوتا،عبارت یہ ہے:
{إنما سأل أبو بكر الصديق ابنته عن أي يوم توفي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم طمعا أن يوافق ذلك اليوم تبركا به .... وقد اتفق أهل السنة أن النبي صلى الله عليه وسلم ولد يوم الإثنين، وأنزل عليه يوم الإثنين، وبعث يوم الإثنين، ودخل المدينة يوم الإثنين، وتوفي يوم الإثنين، وكان يصوم يوم الإثنين والخميس، وذكر مالك فى الموطأ عن أبى هريرة، أنه قال: تعرض أعمال الناس كل جمعة مرتين: يوم الإثنين [والخميس]، فيغفر لكل عبد مؤمن إلا عبدا كانت بينه وبين أخيه شَحْنَاء. فهذه فضيلة يوم الإثنين والخميس}.
ملتی جلتی احادیث
’’مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اسے عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے‘‘، یہ بات غلط ہے۔
سفر بروز ہفتہ نحس اور شُوم [منحوس] ہونا بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ الوداع (الوداع الوداع یا شہر رمضان!) پڑھنا بدعت ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔