روایت: ’’رسول اللہ s نے جبرائیل امین e سے پوچھا: آپ کی سب سے زیادہ طاقت کہاں استعمال ہوئی؟ جبرائیل امین e نے فرمایا: تین موقعوں پر: 1جنت سے مینڈھا لاتے وقت 2جب یوسف e کو کنویں میں ڈالا گیا 3اور جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’معراج کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے دیکھاکہ کچھ عورتیں کتوں کی مانند چیخ رہی ہیں، آوازیں نکال رہی ہیں، نوحہ کررہی ہیں اور ان کا برا حال ہے، نبی اکرمﷺ نے جبریل امین eسے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں اپنے خاوندوں کے ساتھ زبان درازی کرتی تھیں، آج اللہ تعالی نے انھیں یہ سزا دی کہ یہ کتوں کی مانند آوازیں نکال رہی ہیں‘‘۔
روایت: نماز میںیوسف e کی جانب توجہ چلے جانے سے حضرت یعقوبe کا پریشانی میں مبتلاء ہونا۔
روایت: ایک صحابی r کا نبی ﷺ کی اتباع میں مانگ نکالنے کی چاہت کرنا، بال گھنگھریالے ہونے کی وجہ سے مانگ نہ نکلنا، پھر صحابی r کا مانگ نکالنے کےلئے اپنے سر کے درمیان گرم سلاخ کا پھیرنا۔
روایت: نبی اکرمﷺ نے واقعۂ افک میں صحابہ کرام p سے مشورہ کیا، حضرت عمرr نے فرمایا: مجھے منافقین کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے آپﷺ کے جسم اطہر پر مکھی کو نہیں بیٹھنے دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی سے ملوث عورت سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے، حضرت عثمانr نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپﷺ کا سایہ مبارک زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا قدم اس پر نہ پڑے، جب اللہ تعالی نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ آپﷺ کے سایہ مبارک پر قدم رکھ سکے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ اختیار دے دے کہ وہ آپﷺ کی گھر والی کی ناموس کو خراب کردے، حضرت علیr نے فرمایا: حضرت جبرائیلe نے آپﷺ کو خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، اور آپﷺ کو حکم دیا کہ اسے اتار دیں، تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے، کہ آپﷺ کی گھر والی ذرہ برابر بھی کسی برائی میں مبتلا ہو اور اللہ تعالی آپﷺ کو اسے جدا کرنے کا حکم نہ دے۔
روایت: ’’جو شخص ادب میں سستی کرے گا تو اسے سنت سے محرومی کی سزا دی جائے گی، اور جو شخص سنت میں سستی کرے گا تو اسے فرائض سے محرومی کی سزا دی جائے گی، اور جو شخص فرائض میں سستی کرے گا تو اسے معرفت سے محرومی کی سزا دی جائے گی‘‘۔