روایت: فرشتوں کا بندہ کی توبہ پر آسمان میں چراغاں کرنا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] بحر الدموع:ص:30 ،دار الصحابة للتراث ـ بطنطا،الطبعة الأولى1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جب اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: ’’اور آپ کو تمام جہان والوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘، تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل e سے فرمایا: کیا آپ کو بھی اس رحمت میں سے کچھ حصہ ملا ہے؟ جبریل e نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالی نے مجھ سے پہلے ہزاروں فرشتے پیدا کئے، سب کا نام جبریل رکھا، اور اللہ رب العزت نے ان سب سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ان کو جواب معلوم نہ تھا تو وہ پگھلنے لگے، پھر جب اللہ نے مجھے پیدا کیا اور مجھ سے کہا: میں کون ہوں؟ تو، اے محمد! مجھ سے آپ کے نور نے کہا: آپ کہہ دیجئے کہ آپ اللہ ہیں کوئی معبود نہیں سوائے آپ کے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
روایت: جس بندہ نے اپنے غصہ کے گھونٹ کو پیا، جبکہ وہ غصہ کو پورا کرنے کی حالت میں تھا، تو اللہ تعالی قیامت کے دن ہر ہر گھونٹ کے بدلہ میں اس بندے کو اپنا مشاہدہ عطا فرمائیں گے۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی اجنبی (غیر محرم) عورت کی طرف دیکھا تو قیامت کے دن اس کی آنکھ میں انگارے ڈالے جائیں گے، اور ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ اس کی آنکھ میں قیامت کے دن فرشتے لوہے کی سلاخیں ڈالیں گے‘‘۔
روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔