روایت: جس بندہ نے اپنے غصہ کے گھونٹ کو پیا، جبکہ وہ غصہ کو پورا کرنے کی حالت میں تھا، تو اللہ تعالی قیامت کے دن ہر ہر گھونٹ کے بدلہ میں اس بندے کو اپنا مشاہدہ عطا فرمائیں گے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] سنن الترمذي:۴/۳۷۲،رقم:۲۰۲1،ت:إبراهيم عطوه عوض،مطبعة مصطفى البابي ـ القاهرة،الطبعة الثانية 1388هـ .
[2] سنن الترمذي:۴/۳۷۲،رقم:۲۰۲1،ت:إبراهيم عطوه عوض،مطبعة مصطفى البابي ـ القاهرة،الطبعة الثانية 1388هـ .
[3] سنن ابن ماجه:۲/۱۴۰۱،رقم:۴۱۸۹،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،دار إحياء الكتب العربية ـ حلب .
[4] الترغيب والترهيب:3/302،رقم:14،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص چار سو مرتبہ پڑھے تو اس کے لئے چار سو شہیدوں کا ثواب لکھا جائے گا، ان میں ہر شہید ایسا ہوگا جس کا گھوڑا ذبح کردیا گیا ہواور اس کا خون بھی بہایا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص اس کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے تو اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا مقام جنت میں نہ دیکھ لے، یا جب تک اس کو جنت میں اس کا مقام نہ دکھلادیا جائے‘‘۔
روایت:مال داروں، مصیبت زدہ، نوجوانوں، غلاموں اور فقیروں سے اللہ تعالی کے حقوق کی کوتاہی سے متعلق قیامت کے دن سوال کا ہونا، اور حضرت سلیمان e کا بادشاہت، حضرت ایوب e کا ان کی بیماری،حضرت یوسف e کا خوبصورتی اور غلامی، حضرت عیسی e کا فقر کے باوجود اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔