التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’تختم بالعقیق‘‘(عقیق کی انگوٹھی پہننے)کے بارےمیں منقول روایات سب واہی ہیں،اورمحققین ناقدین ان روایات کوبے اصل اورموضوع کہتےہیں۔

تفصیل

’’سوال: قیمتی پتھروں کے سلسلے میں عقیق کا ذکر دو حدیثوں میں ’’جامع صغیر‘‘ میں ہے:

1 - ×تختّموا بالعقیق فإنه مبارك÷. [عقیق کی انگوٹھی پہنو،کیونکہ یہ بابرکت ہے]

2 - ×تختّموا بالعقیق فإنه ينفي الفقر÷. [عقیق کی انگوٹھی پہنو، کیونکہ یہ فقر کو دور کرتی ہے]

اور ایک حبشی نگینہ کے بارے میں بعض شراح،عقیق ہونا ہی لکھتے ہیں،اس کے علاوہ کسی اور پتھر کے متعلق یا اسی عقیق کے بارے میں کوئی روایت نظر سے گذری ہو تو لکھئے گا ؟

جواب: ’’تختم بالعقیق‘‘[عقیق کی انگوٹھی پہننے] کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں مگر سب واہی ہیں، اورمحققین ناقدین، مثلاً ابن عدی l وابن الجوزی lوذہبی lوغیرہ بے اصل بتاتے ہیں، اور موضوع ٹھہراتے ہیں:

×قال العُقَيْلِي: لا يثبت في هذا عن النبي صلى الله عليه وسلمشيء، وقال ابن رجب: كل أحاديث التختم بالعقيق لا يثبت منها شيء، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وكذا صرح الذهبي بكونه موضوعا، ومال إليه السخاوي في المقاصد، وقبله شيخه الحافظ ابن حجر، وبسط القول في ذلك السخاوي والمُنَاوِي في فيض القدير÷.

[(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں) عقیلی l فرماتے ہیں: اس بارے میں آپ ﷺ سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے،ابن رجب l نے کہا ہے کہ عقیق کی انگوٹھی پہننے والی جملہ احادیث میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہے،اور اس روایت کو ابن جوزی l نے ’’موضوعات‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور اسی طرح ذہبی l نے بھی اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے، اور اس بات کی جانب سخاوی l’’المقاصد‘‘ میں مائل ہوئے ہیں، اور ان سے پہلے ان کے شیخ حافظ ابن حجر l بھی اسی طرف مائل ہیں، اور اس بارے میں سخاوی l نے نیز  مُنَاوِی l نے (اپنی کتاب) ’’فیض القدیر‘‘ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے]

اور بھی بعض احجار کے بارےبعض فضائل نقل کیے جاتے ہیں، مثلاً حدیث نقل کرتے ہیں:

×تختّموا بالزمرد فإنه ينفي الفقر، أخرجه الديلمي عن ابن عباس، وقال السخاوي: لا يصح÷. [زُمُرُّد کی انگوٹھی پہنو کہ یہ فقر کو دور کرتی ہے، دیلمی l نے ابن عباس r  سے اس کی تخریج کی ہے، سخاوی l فرماتے ہیں: یہ ’’صحیح‘‘ نہیں ہے]

ایک دوسری روایت ذکر کرتے ہیں:

×تختّموا بالزَبَرْجَد فإنه يسر لا عسر فيه. قال الحافظ ابن حجر: موضوع، وذكر المُنَاوِي في فيض القدير (ص:۲۳۶/۳): روى ابن زنجويه بسند ضعيف عن علي كرم الله وجهه مرفوعا: من تختم بالياقوت الأصفر منع من الطاعون، انتهى÷.

[زَبَرْجَد کی انگوٹھی پہنو، کیونکہ یہ آسان ہے، اس میں کوئی مشکل نہیں۔ حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: یہ من گھڑت ہے، اور مُنَاوِی l نے ’’فیض القدیر‘‘ میں لکھا ہے: ابن زنجویہ l نے بسند ضعيف حضرت علی r  سے مرفوعاً نقل کیا ہے: جس نے زرد یاقوت کی انگوٹھی پہنی وہ طاعون سے محفوظ رہےگا۔ انتہیٰ]

لیکن اس کے مرفوعاً ثبوت میں تو اشکال ہے، واللہ اعلم![1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: چند علمی باتوں کی تحقیق، ۱/۱۹۹، ۲۰۰۔

[2] الیواقیت الغالیۃ : عقیق کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے ؟۲/ ۴۰۱۔

علامہ محمدبن محمد درویش الحوت l’’اسنى المطالب‘‘ (رقم :۴۷۹) میں فرماتے ہیں کہ ’’تختم بالعقیق‘‘ متعدد طرق سے مروی ہے جوتمام کے تمام واہی ہیں،علامہ محمد امیر مالکی l’’النخبۃ البہيۃ ‘‘ (رقم:۸۱) میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت شدید ضعیف ہے، اس کے تمام طریق شدید واہی ہیں،علامہ ابن دَیْبَع l’’تمییز الطیب من الخبیث‘‘ (ص: ۶۵)میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام کے تما م طرق واہی ہیں،حافظ جَوْزَقَانی l نے ’’الاباطیل والمناکیر‘‘ (رقم:۶۳۶)میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے، نیز علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۱/ ۳۴۳،رقم :۹۵۸) میں،علامہ شوکانی l نے ’’الفوائدالمجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۴۲، رقم:۵۵۸)میں، حافظ ابن عدی l ،حافظ عقیلی l، حافظ ابن جوزی l ،حافظ ابن حجر l اور حافظ  سخاوی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے ۔

واضح رہے کہ اس روایت کے بارے میں علامہ زرکشی l’’اللآلی المنثورة‘‘ (ص: ۱۰۵)میں،علامہ سیوطی l’’الدرر المنتثرة (رقم:۱۶۳)میں، علامہ ابن عراق l’’تنزیہ الشريعۃ (۲/ ۲۷۵)میں، علامہ محمد بن طاہر پٹنی l’’تذكرة الموضوعات (ص:۱۵۸)میں، ثبوت کی جانب مائل ہیں،لیکن حافظ سخاوی l اس روایت کے تمام طرق اورممکنہ اشکالا ت کے جوابات دے کر عدمِ ثبوت کے قائل رہے ہیں،حافظ سخاوی l کا کلام ملاحظہ ہو:

’’حديث: تَخَتَّمُوا بِالْعَقِيقِ، له طرق كلها واهية، فمنها لابن عدي في كامله من جهة يعقوب بن الوليد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة مرفوعا به، ويعقوب كذبه أحمد وأبو حاتم وغيرهما، وقد تحرف اسم أبيه على بعض رواته فسماه إبراهيم، كذلك أخرجه ابن عدي أيضا، ومن طريقه البيهقي في الشعب، وله عن عائشة طرق بألفاظ منها: اشتر له خاتما وليكن فصه عقيقا، فإنه من تختم بالعقيق لم يقض له إلا الذي هو أسعد، ومنها: أكثر خَرَز أهل الجنة العقيق، ومنها: لابن عدي أيضا من طريق الحسين بن إبراهيم البابي، عن حميد، عن أنس مرفوعا، بلفظ: فإنه ينفي الفقر بدل فإنه مبارك، زاد: واليمين أحق بالزينة، والبابي تالِف، وجزم الذهبي في الميزان بأنه موضوع .

 ومنها: للديلمي من رواية ميمون بن سليمان عن منصور بن بشر الساعدي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، رفعه بلفظ: تختموا بالعقيق، فإن جبريل أتاني به من الجنة، وقال لي: يا محمد! تختم بالعقيق، وأمر أمتك أن تختم به، وهو موضوع على عمر فمن دونه إلى مالك، ومنها: له أيضا من طريق علي بن مهرويه القزوِيني عن داود بن سليمان، عن علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي، عن أبيه، عن أبيه، عن أبيه، عن أبيه، عن أبيه، عن أبيه، بلفظ: تختموا بالخواتم العقيق، فإنه لا يصيب أحدكم غم ما دام عليه، وعلي بن مهرويه صدوق، وداود بن سليمان يقال له الغازي، وهو جرجاني، كذبه ابن معين، وله نسخة موضوعة بالسند المذكور، من جملتها: إن الأرض تنجس من بول الأقلف أربعين يوما، وهو في أمالي الحسين بن هارون الضبي من وجه آخر عن أبي بكر الأزرق، عن جعفر به، ولفظه: من تختم بالعقيق ونقش فيه: وما توفيقي إلا بالله، وفقه الله لكل خير، وأحبه الملكان الموكلان به، وفي سنده أبو سعيد الحسن بن علي وهو كذاب، وهذا عمله .

ومنها: لابن حبان في الضعفاء من طريق أبي بكر بن شعيب عن مالك، عن الزهري، عن عمرو بن الشَرِيْد، عن فاطمة مرفوعا: من تختم بالعقيق لم يزل يرى خيرا، قال: وابن شعيب يروي عن مالك ما ليس من حديثه، لا يحل الاحتجاج به، وهو عند الطبراني في معجمه الأوسط، والدَارَقُطْنِي في الأفراد، بل وعند الطبراني، وأبي نُعيم في الحلية، وغيرهما، من طرق سواه، ومع ذلك فهو باطل .

وقد قال العُقَيْلِي: إنه لا يثبت في هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء، وذكره ابن الجوزي في الموضوعات، وقال: قد ذكر حمزة بن الحسن الأصبهاني في كتاب ’’التنبيه على حروف من التصحيف‘‘ قال: كثير من رواة الحديث يروون أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تختموا بالعقيق، وإنما قال: تخيموا بالعقيق، وهو اسم واد بظاهر المدينة، قال ابن الجوزي: وهذا بعيد، وتأويله أحق أن ينسب إليه التصحيف لما ذكرنا من طرق الحديث، بل قال شيخنا: حمزة معذور، فإن أقرب طرق هذا الحديث كما يقتضيه كلام ابن عدي في رواية يعقوب، ولفظه: تخيموا بالعقيق فإنه مبارك، وهذا الوصف بعينه قد ثبت لوادي العقيق في حديث عمر الذي أخرجه البخاري في أوائل الحج من رواية عكرمة عن  رضي الله تعالى عنه: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم بوادي العقيق يقول: أتاني الليلة آت من ربي، فقال: صل في هذا الوادي المبارك، انتهى.

وما رواه المُطَرِّز في اليواقيت عن أبي القاسم الصايغ عن إبراهيم الحربي أنه سئل عنه فقال: إنه صحيح، قال: ويروى أيضا بالياء المثناة من تحت، أي: اسكنوا العقيق وأقيموا به، فغير معتمد، بل المعتمد بطلانه، ثم إن قوله في بعض ألفاظه: فإنه ينفي الفقر، يروى في اتخاذ الخاتم الذي فصه من ياقوت، ولا يصح أيضا، قال ابن الأثير: يريد أنه إذا ذهب ماله باع خاتمه فوجد به غنى، وقال غيره: بل الأشبه إن صح الحديث أن يكون لخاصية فيه، كما أن النار لا تؤثر فيه ولا تغيره، وإن من تختم به أمن من الطاعون، وتيسرت له أمور المعاش، ويقوى قلبه، ويهابه الناس، ويسهل عليه قضاء الحوائج، انتهى. وكل هذا يمكن قوله في العقيق إن ثبت‘‘. (المقاصد الحسنة: ص:۱۸۱، رقم:۳۲۰)