روایت: ’’ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک وہ ہے جو میرے جوہر اور میری ہمت میں میرا شریک ہوگا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:1/356،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: عرب کے سرداروں کا آنحضورﷺ سے جھگڑنا کہ ملک بانٹ لیجئے تاکہ جھگڑا نہ ہواور آنحضورﷺ کا ان کو جواب دینا کہ میں اس حکومت میں اللہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہوں اور جانبین سے ان کی بحث، پھر سیلاب کا آنا اور اسے روکنے کےلئے سرداروں نے اپنے نیزے ڈالے جنہیں سیلاب بہا کر لے گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں ایک شاخ ڈالی تو سیلاب مڑ کر سمندر کی جانب چلا گیا۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من ترك الأربع قبل الظهر لم تنله شفاعتي‘‘. جس نے ظہر سے پہلے کی چار سنتیں چھوڑ دیں، وہ میری شفاعت نہیں پائے گا‘‘۔