روایت: ’’نبی علیہ السلام نے فرمایا: ’’الوضوء سلاح المؤمن‘‘. وضوء مؤمن کا ہتھیار ہے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔
روایت: حدیث پاک میں آیا ہے: ’’جو بندہ ملتزم سے لپٹ گیا، وہ ایسا ہے جیسے اس نے اللہ تعالی کے ساتھ معانقہ کیا‘‘۔
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو عورت اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم محبت کی نظر سے دیکھے، اللہ رب العزت فیصلہ کرلیتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھوں گا، اور جو مرد اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم عورت محبت کی نظر سے دیکھے، اسے بھی اللہ تعالی قیامت کے دن محبت کی نظر سے نہیں دیکھےگا‘‘۔
روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’يا أبا ذر! جدد السفينة، فإن البحر عميق، وخفف الحمل، فإن السفر بعيد، واحمل الزاد، فإن العقبة طويلة، وأخلص العمل، فإن الناقد بصير‘‘. اے ابو ذر! کشتی بنا سنوار لو، کیونکہ سمند بہت گہرا ہے، اوربوجھ ہلکا رکھو، کیونکہ سفر بہت دور ہے، اور توشہ لو، کیونکہ گھاٹی لمبی ہے، اور عمل کو خالص رکھو، کیونکہ پرکھنے والا خوب نظر رکھنے والا ہے‘‘۔